پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدور نے کب کب گورنر راج لگایا؟، جانئے مکمل تفصیلات

صرف آصف علی زرداری نے ہی بطور صدر پاکستان تین نمایاں مواقع پر گورنر راج یا صوبائی ایمرجنسی کے صدارتی حکم ناموں پر دستخط کیے ہیں۔

 

پاکستان پیپلز پارٹی کے ادوار میں پانچ ایسے مواقع تاریخ کا حصہ بنے ہیں جب پارٹی نے گورنر راج یا ایمرجنسی کی توثیق کی۔

 

پہلا دور 1973 کا ہے جب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں فروری 1973 میں بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام کی حکومت کو برطرف کر کے گورنر راج نافذ کیا گیا۔ وفاق نے اسے سلامتی کے تحفظات اور وفاق مخالف سرگرمیوں کے الزامات کی بنیاد پر نافذ کیا اور پارلیمان میں اکثریت کے ذریعے اسے قانونی تحفظ دیا۔ 1976 میں بھی بلوچستان میں گورنر راج اور فوجی پیش رفت کو مرکزی حکومت کی توثیق حاصل رہی۔

 

دوسرا واقعہ فروری 1975 کا ہے جب خیبر پختونخوا میں سینئر صوبائی وزیر حیات محمد خان شیرپاؤ کے بم دھماکے میں قتل کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی و سیکیورٹی بحران پر صدارتی فرمان کے ذریعے گورنر راج نافذ کیا گیا، جس کی توثیق وفاقی کابینہ اور پارلیمانی اکثریت نے کی۔

 

تیسری مرتبہ فروری 1994 میں بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں خیبر پختونخوا میں صدر فاروق لغاری نے وفاق کی سفارش پر پیر صابر شاہ کی حکومت میں اکثریت کے بحران پر آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج نافذ کیا، جس کا پیپلز پارٹی نے سیاسی دفاع کیا۔

 

چوتھا واقعہ فروری 2009 میں آصف علی زرداری کی صدارت اور یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمیٰ میں پیش آیا جب سپریم کورٹ کے شریف برادران کو نااہل قرار دینے کے بعد پنجاب میں دو ماہ کے لیے گورنر راج نافذ کر کے گورنر سلمان تاثیر کو اختیارات سونپے گئے، تاہم وکلا تحریک اور سیاسی دباؤ پر یہ ایک ماہ میں ختم ہوگیا۔

 

پانچویں بار جنوری 2013 میں ہزارہ برادری پر بم دھماکوں کے بعد پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کی حکومت برطرف کر کے بلوچستان میں گورنر راج نافذ کیا گیا اور گورنر نواب ذوالفقار مگسی نے انتظام سنبھالا، جسے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور پارلیمان نے منظور کیا۔

 

اس کے برعکس اکتوبر 1998 میں نواز شریف حکومت میں سندھ میں حکیم سعید کے قتل کے بعد گورنر راج پر پیپلز پارٹی نے بطور اپوزیشن مخالفت کی تھی۔ اکتوبر 2026 میں خیبر پختونخوا میں آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ چھٹا بڑا موقع ہے جس میں وفاق کو پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل ہے۔