خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ گورنر راج پورے صوبے جب کہ ایمرجنسی صرف چند اضلاع میں لگے گی۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ کے پی میں گورنر راج کے سلسلے میں اہم میٹنگ ہو چکی ہے، ابھی فیصلہ ہونا ہے، آرٹیکل 232 اور 234 ایک ساتھ بھی لگ سکتے ہیں اور الگ الگ بھی، وفاقی حکومت اور صدر نے فیصلہ کرنا ہے کہ کیا کرنا ہے۔
طلال چوہدری نے اس سلسلے میں کہا کہ چیزیں آخری آپشن کی طرف بڑھ رہی ہیں، ایمرجنسی آخری آپشن ہے، کوشش کی جائے گی اس اقدام کی بجائے دوسرے آپشنز کو ترجیح دی جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں آرٹیکل دو سو بتیس اور دو سو چونتیس دونوں کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے، آرٹیکل دو سو بتیس کے مطابق جنگ اور داخلی انتشار پر صدر مملکت کسی صوبے میں ایمرجنسی کا اعلان کر سکتے ہیں، صدر کے اعلان کے بعد یہ فیصلہ 10 روز میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوان کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
دوران ایمرجنسی پارلیمنٹ کو صوبے یا اس کے کسی حصے سے متعلق قانون سازی کا اختیار ہوگا، آرٹیکل دو سو چونتیس کے تحت وفاقی حکومت تمام اختیارات گورنر کے پی کے سپرد کرے گی، صدر مملکت وفاقی حکومت کی تجویز پر تمام انتظامی اختیارات گورنر کو منتقل کر دیں گے۔






