خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، ڈرون حملوں میں اضافے اور پولیس کی استعداد سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں صوبے کی سیکیورٹی اور گورننس کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ پولیس اور حساس اداروں کی رپورٹس بھی زیرِ غور آنے کا امکان ہے۔
حساس اداروں کی رپورٹس کے مطابق یکم مارچ 2024 سے 23 ستمبر 2026 تک صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2026 میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں سے 73 فیصد کا نشانہ پولیس اور سیکیورٹی ادارے بنے۔
ڈرون حملوں کی تعداد 2024 میں صفر سے بڑھ کر 2026 میں 170 تک پہنچنے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آئی ای ڈی حملوں کی تعداد 2025 میں 181 رہی، جبکہ ستمبر 2026 تک 159 حملے ریکارڈ کیے گئے۔
اس کے علاوہ صوبے میں پولیس کی 9 ہزار سے زائد آسامیاں خالی ہونے، جدید ہتھیاروں، نگرانی کے آلات، نائٹ ویژن اور تھرمل امیجنگ ٹیکنالوجی کی کمی کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹس میں سیف سٹی منصوبے کے پشاور تک محدود ہونے، ضم شدہ اضلاع کی پولیس کو تربیت اور وسائل کی کمی، جبکہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو تربیت یافتہ افرادی قوت اور آپریشنل سہولیات کی قلت کا سامنا ہونے کا بھی ذکر ہے۔
ذرائع کے مطابق کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں دہشت گردی کے بڑھتے خطرات، سیکیورٹی اداروں کی استعداد، انسدادِ دہشت گردی اقدامات میں خامیوں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ رپورٹس میں افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر، مقامی سہولت کاروں اور صوبائی پالیسیوں میں خامیوں کو بھی سیکیورٹی خطرات سے متعلق عوامل قرار دیا گیا ہے۔






