سندھ ہائیکورٹ نے سابق صدر عارف علوی کو الاٹ شدہ گھر نہ ملنے سے متعلق درخواست پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ باتھ آئی لینڈ میں انہیں الاٹ کیے گئے گھر پر سابق کسٹم ملازم کا قبضہ ہے اور سابق صدر کی حیثیت سے رہائش ان کا حق ہے۔
سابق صدر کے وکیل بیرسٹر علی طاہر نے عدالت کو بتایا کہ عارف علوی کو صدارتی عہدہ ختم ہونے کے بعد یہ گھر الاٹ کیا گیا تھا تاہم اسے کوئی دوسرا شخص استعمال کر رہا ہے۔
دوسری جانب سابق کسٹم ملازم شہاب امام نے مؤقف اختیار کیا کہ گھر انہیں قانونی طور پر الاٹ کیا گیا ہے اور ان کے پاس وزارت قانون کا خط موجود ہے جس کے مطابق انہیں 60 برس بعد یہ گھر خالی کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر کے پاس پہلے ہی کئی گھر ہیں اس لیے انہیں اس گھر کی ضرورت نہیں، کیبنٹ ڈویژن کے پاس 200 گھر ہیں اگر وہ چاہیں تو عارف علوی کو اسلام آباد میں گھر دیا جا سکتا ہے۔






