وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت معیشت میں اصلاحات، قرضوں پر انحصار کم کرنے اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چھوٹے سرمایہ کاروں کو بھی سرمایہ کاری کا موقع فراہم کرنے کے لیے ایسی سہولت متعارف کرائی گئی ہے جس کے تحت صرف 5 ہزار روپے سے ٹریژری بلز میں سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے۔ حکومت کی جانب سے بینکنگ نظام پر انحصار کم کرکے کیپیٹل مارکیٹس کو وسعت دینے پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق بڑھتے ہوئے ملکی قرضوں اور ان کی ادائیگی کے بوجھ سے نمٹنے کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں۔ حکومت قرضوں کی لاگت کم کرنے کے لیے لائبلیٹی مینجمنٹ ٹریڈز اور ڈیبٹ بائی بیک سمیت مختلف اقدامات پر بھی کام کر رہی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ سے متعلق بات چیت گزشتہ سال نومبر اور دسمبر میں شروع ہوئی تھی، جسے اتفاق رائے کے ذریعے منطقی انجام تک پہنچانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق این ایف سی کی تقسیم کے معاملات پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی اور آبادی میں تیزی سے اضافے جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ موجودہ رفتار سے آبادی میں اضافے کی صورت میں وسائل اور مالیاتی نظام کو پائیدار انداز میں چلانا مشکل ہوگا، اس لیے آبادی اور وسائل سے متعلق موجودہ نظام پر نظرثانی ضروری ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو 2 سے 2.5 ارب ڈالر تک محدود رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ آئی ٹی برآمدات میں بھی مسلسل بہتری آرہی ہے اور گزشتہ مالی سال یہ تقریباً 4.6 ارب ڈالر رہیں، جبکہ رواں مالی سال یہ حجم 5.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق گزشتہ مالی سال ترسیلات زر 41.6 ارب ڈالر رہیں، جبکہ موجودہ رجحان برقرار رہنے کی صورت میں رواں مالی سال یہ رقم تقریباً 44 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ مجموعی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اشیا کی تجارت کے خسارے کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ کی پوزیشن کو قابلِ انتظام رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔






