### Rewrite
*پٹرولیم مصنوعات کی ڈی ریگولیشن: جون 2027 کا ہدف تجویز*
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت پٹرولیم پرائسنگ کمیٹی کے اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں شفافیت اور استحکام کے لیے اہم سفارشات پر اتفاق ہوا۔
کمیٹی نے *جون 2027 کو پٹرول کی ڈی ریگولیشن کا ممکنہ ہدف* مقرر کرنے کی سفارش کی۔ اس کے تحت پٹرول کی قیمتوں کو بتدریج مسابقتی اور مارکیٹ پر مبنی نظام کی طرف منتقل کیا جائے گا۔
کمیٹی کا کہنا ہے کہ ان سفارشات کا مقصد مارکیٹ کی کارکردگی بہتر بنانا اور صارفین کو قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ سے بچانا ہے۔
*اہم فیصلے:*
1. *ہنگامی مداخلت کے اصول:* ڈیزل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی صورت میں حکومت کے لیے مداخلت کے رہنما اصول طے کیے گئے۔
2. *آئی ایف ای ایم مارجن:* انلینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن کے تعین کے لیے نظرثانی شدہ طریقہ کار پر اتفاق۔
3. *اوگرا کی یقین دہانی:* اوگرا نے مالی سال 2026 کا آئی ایف ای ایم آڈٹ سال 2026 کے اختتام تک مکمل کرنے کا وعدہ کیا۔
کمیٹی کی حتمی رپورٹ جلد وزیراعظم کو پیش کی جائے گی۔
—
### ڈی ریگولیشن سے کیا مراد ہے؟
*سادہ الفاظ میں:* ڈی ریگولیشن کا مطلب ہے کہ حکومت پٹرول، ڈیزل اور دیگر مصنوعات کی قیمتیں خود مقرر کرنے کے بجائے یہ اختیار مارکیٹ کو دے دے۔
*مزید وضاحت:*
1. *حکومت کا کردار ختم:* حکومت یا اوگرا ہر 15 دن بعد قیمت کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کرے گا۔
2. *کمپنیاں خود قیمت طے کریں گی:* آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اپنی لاگت، عالمی منڈی، طلب و رسد اور ٹیکس کے حساب سے خود قیمتیں لگائیں گی۔
3. *مختلف قیمتیں ممکن:* ڈی ریگولیشن کے بعد ایک ہی شہر میں مختلف کمپنیوں کے پمپ پر پٹرول کی قیمت مختلف ہو سکتی ہے، بالکل موبائل نیٹ ورک یا بینکوں کی طرح۔
*فائدہ:* مسابقت بڑھے گی، سروس بہتر ہوگی
*چیلنج:* قیمتوں میں اتار چڑھاؤ زیادہ ہو سکتا ہے، اسی لیے ہنگامی حالات کے لیے مداخلت کے اصول بنائے جا رہے ہیں۔
کیا آپ چاہتے ہیں میں اس کے پاکستان پر ممکنہ اثرات بھی لکھ دوں؟






