سات ماہی بچوں میں آنکھوں کی بیماری وبائی شکل اختیار کر گئی۔ حکومت قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی اسکریننگ کو لازمی قرار دے، الشفاء ٹرسٹ کی اپیل

پاکستان میں قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں میں ریٹینوپیتھی آف پری میچیورٹی (آر او پی) تیزی سے سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے جس کے باعث ہزاروں بچوں کی بینائی زائل ہو سکتی ہے۔

ماہرینِ امراضِ چشم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قبل از وقت پیدا ہونے والے تمام بچوں کی ملک گیر سطح پر لازمی اسکریننگ شروع کی جائے ۔

الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال راولپنڈی کے شعبہ اطفال امراضِ چشم کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 10 لاکھ بچے قبل از وقت پیدا ہوتے ہیں، جن میں سے اندازاً 3 لاکھ مختلف درجے کی آر او پی کا شکار ہو جاتے ہیں، جبکہ ہزاروں بچوں کو بینائی بچانے کے لیے نازک سرجری کی ضرورت پیش آتی ہے۔

آر او پی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب قبل از وقت پیدائش کے باعث آنکھ کے پردۂ بصارت (ریٹینا) کی خون کی نالیاں مکمل طور پر نشوونما نہیں پاتیں اور غیر معمولی انداز میں بڑھنے لگتی ہیں جس سے بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں مستقل نابیناپن ہو سکتا ہے۔ پیدائش کے وقت ڈیڑھ کلوگرام سے کم وزن والے بچوں میں اس بیماری کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔الشفا ٹرسٹ کے آر او پی ماہر ڈاکٹر امجد نے کہا کہ پاکستان میں قبل از وقت پیدائش کی بڑھتی شرح کے باوجود آر او پی کی قومی اسکریننگ کا کوئی نظام موجود نہیں، جبکہ بھارت میں نوزائیدہ انتہائی نگہداشت یونٹس (این آئی سی یو) سے ڈسچارج سے قبل لازمی معائنہ متعارف کرانے کے بعد اس بیماری سے ہونے والی نابینائی میں نمایاں کمی آئی ہے۔آر او پی کے علاج کے لیے تربیت یافتہ ماہرین، خصوصی اینستھیزیا ٹیم اور جدید جراحی سہولیات درکار ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال پاکستان کا واحد مرکز ہے جہاں آر او پی کی پیچیدہ سرجری کی جاتی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ہسپتال نے 560 بچوں کی مفت سرجری کی ہے جو متاثرہ بچوں کئ تعداد کا ایک چھوٹا حصہ ہے۔ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ این آئی سی یوز میں آر او پی اسکریننگ لازمی قرار دی جائے، خصوصی علاج کی سہولیات میں اضافہ کیا جائے اور اس مقصد کے لیے مناسب فنڈز فراہم کیے جائیں تاکہ ہزاروں بچوں کی بینائی محفوظ بنائی جا سکے۔