لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد راحیل کامران شیخ نے ذاتی وجوہات کی بنا پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
جسٹس راحیل کامران نے استعفیٰ صدرِ پاکستان کو بھجوا دیا ہے، جبکہ اس کی ایک کاپی رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کو بھی ارسال کردی گئی ہے۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 206 کے تحت استعفیٰ دیا اور عہدے سے فوری طور پر سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔
جسٹس راحیل کامران 7 مئی 2021 کو لاہور ہائیکورٹ کے جج مقرر ہوئے تھے اور اس وقت ججز کی سنیارٹی لسٹ میں 27 ویں نمبر پر تھے۔ انہیں 20 جنوری 2036 کو ریٹائر ہونا تھا، تاہم انہوں نے مدت ملازمت مکمل ہونے سے قبل استعفیٰ دے دیا۔
استعفے کے متن میں جسٹس راحیل کامران نے کہا کہ وہ بطور فقیہ مزید ترقی اور قانون کی حکمرانی میں وسیع تر کردار ادا کرنے کے لیے بینچ چھوڑ رہے ہیں۔ وہ قانونی اسکالرشپ، پالیسی ریسرچ اور تقابلی عدالتی مشق کے شعبوں میں اپنا کردار بڑھانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے اپنے استعفے میں بینچ پر گزرے برسوں کو پیشہ ورانہ زندگی کا سب سے زیادہ تشکیل دینے والا اور تکمیل پذیر دور قرار دیتے ہوئے سینئر ساتھی ججز اور عدالتی عملے کا شکریہ ادا کیا۔






