بیرونِ ملک مقیم پنشنرز کو غیر ملکی کرنسی میں پنشن کی ادائیگی کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کی تفصیلات وزارت خزانہ نے قومی اسمبلی میں پیش کر دیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق مختلف محکموں سے تعلق رکھنے والے 33 پنشنرز بیرونِ ملک مقیم ہیں اور انہیں غیر ملکی کرنسی میں پنشن ادا کی جا رہی ہے۔ یہ پنشنرز 2 جنوری 1959 سے پہلے ملازمت پر تعینات ہوئے تھے۔
تحریری جواب میں بتایا گیا کہ دیگر سرکاری ملازمین کی طرح ان پنشنرز کی پنشن بھی اے جی پی آر کی جانب سے پاکستانی روپے میں مقرر کی جاتی ہے، تاہم پاکستانی مشنز کے ذریعے چیف اکاؤنٹ آفیسر متعلقہ بینک میں رقم غیر ملکی کرنسی میں منتقل کرتے ہیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق پنشنرز کو ڈالر پروٹیکشن حاصل نہیں۔ روپے کی قدر میں کمی کی صورت میں زرِ مبادلہ کے نقصان کا بوجھ حکومت کے بجائے خود پنشنر برداشت کرتا ہے۔
2021 سے اب تک 33 پنشنرز کو مجموعی طور پر 34 کروڑ 21 لاکھ 9 ہزار 614 روپے کے برابر غیر ملکی کرنسی میں پنشن ادا کی جا چکی ہے۔ واشنگٹن میں 11، نیویارک میں 10 اور اوٹاوا میں 4 پنشنرز کو ادائیگی کی جا رہی ہے، جبکہ ہیوسٹن، ویانا، ٹورنٹو، لندن، وینکوور، کینبرا اور اسٹاک ہوم میں بھی پنشنرز موجود ہیں۔
جواب کے مطابق بیرونِ ملک منتقل ہونے والے ان پنشنرز کی معلومات اے جی پی آر کے پاس موجود نہیں، کیونکہ پنشنرز پر بیرونِ ملک منتقلی کی اطلاع دینا قانونی طور پر لازم نہیں۔
بیرونِ ملک مقیم پنشنرز کے لیے بنیادی شرط پروف آف لائف سرٹیفکیٹ جمع کرانا ہے، تاہم اے جی پی آر کے پاس ان پنشنرز کی موجودہ رہائش گاہ معلوم اور تصدیق کرنے کا کوئی باقاعدہ طریقہ موجود نہیں۔






