پاکستان سمیت مختلف عالمی جرائد میں بانی پی ٹی آئی سے متعلق تحریک انصاف کے الزامات اور حکومتی مؤقف پر رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
فراہم کردہ متن کے مطابق واشنگٹن پوسٹ نے بانی پی ٹی آئی کے اہلخانہ اور سیاسی جماعت کی جانب سے جیل میں سختیوں، ذہنی تشدد، تنہائی اور طبی غفلت کے الزامات کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کیے جانے کی تفصیلات بھی رپورٹ کی ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بانی پی ٹی آئی حکومتی حکم پر نہیں بلکہ عدالتوں کی جانب سے سزا یافتہ قیدی کی حیثیت سے جیل میں ہیں۔ پاکستانی وزارت اطلاعات بھی انہیں تنہائی میں رکھنے اور اہلخانہ سے ملاقات نہ ہونے سے متعلق بیانات کی تردید کرچکی ہے۔
متن کے مطابق دی گوشن نیوز نے رپورٹ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی اہلخانہ، وکلا، ڈاکٹرز اور سیاسی نمائندوں سے 900 سے زائد ملاقاتیں ہوچکی ہیں، جبکہ انہیں اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقاتوں کے علاوہ بیرون ملک موجود رشتہ داروں سے ٹیلیفون پر رابطے کی اجازت بھی حاصل ہے۔
دی انڈین ایکسپریس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پمز، شفا، شوکت خانم اور الشفا آئی اسپتال کے ماہرین اور میڈیکل بورڈز بانی پی ٹی آئی کے 30 سے زیادہ طبی معائنے کرچکے ہیں۔ متن کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن عظمیٰ خان نے جمعہ کو یہ بھی کہا تھا کہ ان کے بھائی 100 فیصد صحت یاب ہیں۔
سیئٹل ٹائمز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں 7 سیلز پر مشتمل کمپاؤنڈ دیا گیا ہے، جہاں سونے اور ورزش کی سہولیات موجود ہیں۔ امریکی جریدے کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو گوشت، مرغی، پھل، دودھ، خشک میوہ جات، جوس اور صاف پانی بھی فراہم کیا جاتا ہے۔






