عمران خان کی صحت سے متعلق سپرنٹنڈنٹ جیل کی سپریم کورٹ میں رپورٹ ، تفصیلات سامنے آ گئیں

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق 2 صفحات پر مشتمل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ متعدد سرکاری معالجین عمران خان کا چیک اپ کرتے ہیں اور ان کے کھانے پینے کی جانچ دن میں 3 بار کی جاتی ہے۔ عمران خان اور ان کی اہلیہ کی جیل رولز کے تحت ہر منگل کو باقاعدہ ملاقات کرائی جاتی ہے اور اب تک دونوں کی 84 ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ وکیل سلمان صفدر بھی 10 فروری اور 4 اپریل 2026 کو عمران خان سے مل چکے ہیں۔ رپورٹ میں ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں یقین دہانی کرائی تھی کہ ملاقات کے بعد جیل احاطے میں میڈیا سے گفتگو نہیں کی جائے گی تاہم عدالتی حکم کے باوجود میڈیا ٹاک کر کے خلاف ورزی کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کا سنگل بینچ شیر افضل کیس میں جیل رولز 265 کو خلاف قانون قرار دے چکا ہے اور جیل میں ملاقاتوں کے ذریعے عدلیہ، خارجہ پالیسی اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے خلاف عوامی جذبات کو ابھارا گیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ماہر امراض چشم سے بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا علاج کرایا جاتا رہا ہے اور ان کی ایک آنکھ اب تقریباً نارمل ہے۔ رپورٹ کے ساتھ 4 نومبر 2023 سے 10 اگست 2026 تک 39 مختلف طبی ماہرین کے معائنے کی سمری بھی شامل ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کل عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق کیس کی سماعت کرے گا۔