فتنۃ الہندوستان کے دہشتگردوں کو بیرونی سرپرستی اور مالی معاونت کے مزید شواہد منظر عام پر

اسلام آباد میں جاری کیے گئے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فتنۃ الہندوستان کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی جدید طرز کی ایک ویڈیو نے تنظیم کو حاصل مبینہ بیرونی معاونت کے حوالے سے نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

بیان کے مطابق ویڈیو میں ڈرون زومز، مختلف زاویوں سے ریکارڈنگ، ہائی ڈیفینیشن کوریج اور سینمیٹک ایڈیٹنگ کا استعمال کیا گیا ہے، جس سے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آیا پہاڑی علاقوں میں سرگرم دہشت گرد تنظیم کے پاس ایسی جدید تکنیکی صلاحیتیں اور وسائل موجود ہیں یا اسے بیرونی معاونت حاصل ہے۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کالعدم تنظیم کی جانب سے جاری کی گئی حملے کی ویڈیو میں ایسے ہتھیار اور سازوسامان بھی دکھائی دیتے ہیں جو افغانستان میں موجود امریکی فوجی ذخیرے سے منسوب کیے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ خودکش حملہ آور شہناز سے متعلق جاری کی گئی ایک پروپیگنڈا ویڈیو کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس میں جدید سازوسامان اور ہتھیار دکھائے گئے تھے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں متعدد دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پڑوسی ممالک کے لیے سکیورٹی خطرہ ہے۔ مزید دعویٰ کیا گیا کہ فتنۃ الخوارج (ٹی ٹی پی) سے وابستہ عناصر کو افغانستان میں القاعدہ کے تربیت کاروں سے تربیت ملتی رہی ہے۔

بیان کے مطابق ویڈیو میں افغانستان میں موجود دہشت گردوں کو مقامی زبان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے، جس کے بعد تنظیم کو دستیاب مالی وسائل، جدید ٹیکنالوجی اور لاجسٹک معاونت کے ذرائع پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

سیگار کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا گیا کہ 2021 میں امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے وقت بڑی مقدار میں فوجی سازوسامان وہاں رہ گیا تھا، جس کی مالیت تقریباً 7.1 ارب ڈالر بتائی گئی۔ بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ یہ ہتھیار اور سازوسامان بعد ازاں طالبان کے زیر اثر ماحول میں دہشت گرد گروہوں تک پہنچا۔

بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور مبینہ بیرونی معاونت خطے کے امن کے لیے سنگین چیلنج بن چکی ہے، جبکہ فتنۃ الہندوستان کو بلوچستان میں سرگرم ایک ایسی تنظیم قرار دیا گیا جو مبینہ طور پر بیرونی ایجنڈے اور مالی معاونت کے ذریعے اپنی کارروائیاں اور پروپیگنڈا جاری رکھے ہوئے ہے۔