افغان عوام سے اختلاف نہیں، طالبان حکومت کی پالیسیوں پر اعتراض ہے، پاکستان

اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر عاصم افتخار نے کہا ہے کہ طالبان حکومت خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے خود ایک پراکسی بن چکی ہے۔

اپنے خطاب میں عاصم افتخار نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں اور سہولت حاصل ہے، جبکہ طالبان حکومت ٹی ٹی پی کو اسلحہ، مالی معاونت اور پاکستان میں دراندازی کے لیے سہولت فراہم کر رہی ہے۔

پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ پاکستان کا افغان عوام سے کوئی اختلاف نہیں، اعتراض طالبان حکومت کی پالیسیوں پر ہے۔ ان کے مطابق طالبان حکومت نے 2021 کے بعد اپنے تینوں بنیادی وعدوں پر کوئی پیشرفت نہیں کی، جبکہ خواتین اور بچیوں کے حقوق پر عائد پابندیاں بھی طالبان حکومت کی ناکامی کا مظہر ہیں۔

عاصم افتخار نے کہا کہ سعودی عرب، ترکیہ، چین اور قطر افغانستان کے معاملے پر ثالثی کرچکے ہیں، تاہم طالبان حکومت کو دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرنا ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ 2025 میں پاکستان میں دہشت گردی کے 5 ہزار 200 سے زائد واقعات پیش آئے، جن میں ایک ہزار 300 سے زائد پاکستانی جاں بحق ہوئے۔ 2026 کے پہلے 6 ماہ کے دوران پاکستان میں 3 ہزار سے زائد حملے ہوچکے ہیں، جبکہ رواں سال دہشت گردی کے واقعات میں 830 سے زائد پاکستانی جاں بحق ہوئے۔