تہران اور واشنگٹن کے درمیان پاکستان اور قطر کی ثالثی سے جون میں طے پانے والا ’اسلام آباد معاہدہ‘ آج پیر کو ختم ہو گیا۔ دو ماہ کی مدت میں امریکا اور ایران کے درمیان کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا اور مذاکرات تعطل کا شکار رہے۔ اس کے بعد ایران نے اپنی دفاعی حکمت عملی کو حملہ آور حکمت عملی میں تبدیل کرنے کا اشارہ دیا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان رواں سال فروری میں جنگ شروع ہوئی تھی جس کے باعث خلیج فارس میں بحری جہازوں کی آمد و رفت اور عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہوئی۔ تنازع کے حل کے لیے 17 جون کو پاکستان اور قطر کی کوششوں سے دونوں ممالک نے چودہ نکات پر مشتمل ایک عارضی معاہدہ کیا تھا جس کا مقصد جنگ کو مستقل طور پر روکنا تھا۔
معاہدے کی شقوں کے مطابق دونوں فریقوں کو ساٹھ دن کے اندر حتمی معاہدہ کرنا تھا لیکن بات چیت جلد ہی ناکام ہو گئی۔ مدت ختم ہونے پر توسیع کے حوالے سے بھی تنازع پیدا ہوا۔ کچھ ذرائع نے عرب خبر رساں ادارے کو بتایا تھا کہ دونوں ممالک مدت بڑھانے پر متفق ہو گئے ہیں تاہم ایران نے اس کی تردید کر دی۔ ایرانی حکومت کا موقف ہے کہ امریکا نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جولائی میں دوبارہ جنگ شروع کی اس لیے ساٹھ دن کی کوئی رعایت باقی نہیں جسے بڑھایا جائے۔
ایران کے اعلیٰ عسکری کمانڈر بریگیڈیئر جنرل یداللہ جوانی نے کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر ایران کی دفاعی حکمت عملی اب نئی اور سخت ترین پالیسی کے تحت حملہ آور حکمت عملی میں تبدیل ہونے کے لیے تیار ہے۔






