مری (آن لائن) مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے آزاد کشمیر میں سیاسی رواداری برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ آزاد کشمیر کی سیاست میں ہمیشہ ایک مثبت ماحول رہا ہے اور اسے برقرار رکھنا تمام سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے۔ ماضی میں بعض سیاسی مخالفین کی جانب سے صرف دعوے اور نعرے سننے کو ملے، عملی اقدامات کم دکھائی دیے، تاہم ملک اب درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف کی زیر صدارت مرکزی قیادت کا ایک اہم اجلاس ہوا جس میں آزاد کشمیر میں حکومت سازی پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے آزاد کشمیر اسمبلی کے نومنتخب ارکان نے شرکت کی۔
آزاد کشمیر کے انتخابات میں کامیاب امیدواروں کو مبارکباد دیتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ انتخابی عمل کے ابتدائی دو مرحلوں میں مسلم لیگ (ن) کو عوام کی حمایت حاصل ہوئی ہے، تاہم کامیاب نہ ہونے والے امیدوار بھی خراجِ تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے انتخابی میدان میں بھرپور کردار ادا کیا۔
نواز شریف نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر میں حکومت کی کارکردگی ہی آئندہ سیاسی کامیابی کی بنیاد بنے گی۔ ان کے مطابق اگر عوام کی توقعات پوری نہ کی گئیں تو حکومت کو عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے آزاد کشمیر کے لوگوں کی فلاح، روزگار، تعلیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو اولین ترجیح دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ہمیشہ ترقیاتی کاموں کو سیاست پر فوقیت دی ہے۔ پنجاب میں شہباز شریف نے ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد رکھی جبکہ مریم نواز نے اسے آگے بڑھایا، اب اسی طرز پر آزاد کشمیر میں بھی ترقی کا عمل شروع کرنے کی ضرورت ہے۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ ماضی میں بعض سیاسی مخالفین کی جانب سے صرف دعوے اور نعرے سننے کو ملے، عملی اقدامات کم دکھائی دیے، تاہم ملک اب درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور آنے والے دنوں میں مشکلات پر مزید قابو پانے کی کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ آزاد کشمیر کے نوجوانوں کے لیے تعلیمی مواقع بڑھائے جائیں، طلبہ کو لیپ ٹاپ اور اسکالرشپس فراہم کی جائیں اور کسانوں کے لیے کسان کارڈ جیسے اقدامات متعارف کرائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف آزاد کشمیر کے لیے زیادہ سے زیادہ وسائل مختص کریں تاکہ علاقے میں ترقیاتی سرگرمیوں کو رفتار دی جا سکے۔
نواز شریف نے آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم میں بھرپور کردار ادا کرنے والے رہنماؤں کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ امیر مقام اور رانا ثنا اللہ نے انتخابی مہم میں بھرپور محنت کی، بالخصوص امیر مقام نے اس انداز میں مہم چلائی جیسے وہ خود امیدوار ہوں۔
مسلم لیگ (ن) کے قائد نے ہدایت کی کہ آزاد کشمیر میں نئی کابینہ کی تشکیل میرٹ اور اہلیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے جبکہ پارٹی منشور پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز تیز رفتاری سے کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
قبل ازیں نواز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کا اہم اجلاس ہوا جس میں آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور آزاد کشمیر اسمبلی کے نومنتخب لیگی ارکان نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران آزاد کشمیر کے آئندہ وزیراعظم کے انتخاب کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر وزارتِ عظمیٰ کے لیے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں، جبکہ طارق فاروق، کرنل (ر) وقار اور راجہ فاروق حیدر کے نام بھی زیر غور ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی نے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کے انتخاب کا اختیار نواز شریف کو سونپ دیا ہے۔
ادھر مخصوص نشستوں کے لیے مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کی جانب سے تجویز کردہ امیدواروں کی فہرست بھی نواز شریف کو پیش کردی گئی۔ خواتین کی نشستوں کے لیے ماریہ اقبال ترانہ، ناصرہ خان، مریم کشمیری، نثارہ عباسی اور سحرش قمر کے نام زیر غور ہیں۔
مخصوص نشستوں میں ٹیکنوکریٹ کے لیے راجہ شاداب سکندر، علما و مشائخ کی نشست پر پیر مظہر سعید جبکہ اوورسیز نشست کے لیے راجہ محمد جاوید کے ناموں کو حتمی شکل دیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق مخصوص نشستوں کے امیدواروں اور حکومت سازی سے متعلق حتمی فیصلے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی منظوری سے کیے جائیں گے۔






