آزاد کشمیر کے نئے قائدِ ایوان کا تاج کس کے سر سجے گا؟ فیصلہ نواز شریف کے سپرد

مری (آن لائن) مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کی زیر صدارت آزاد کشمیر سے متعلق اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس میں حکومت سازی کے آئندہ مرحلے، قائد ایوان کے انتخاب اور اہم آئینی و پارلیمانی عہدوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں آزاد کشمیر میں مستحکم حکومت کے قیام اور پارلیمانی امور میں ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے آئندہ کی حکمت عملی طے کرلی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی نے آزاد کشمیر کے نئے قائد ایوان کے انتخاب کا حتمی اختیار نواز شریف کو دے دیا ہے۔ پارٹی قیادت کی مشاورت مکمل ہونے کے بعد نواز شریف آئندہ چند روز میں قائد ایوان کے نام کا اعلان کریں گے۔

اجلاس میں آزاد کشمیر کے نومنتخب لیگی ارکان اسمبلی کے علاوہ مسلم لیگ (ن) پاکستان اور آزاد کشمیر کی مرکزی قیادت نے شرکت کی۔ شرکا نے حالیہ انتخابات کے نتائج، پارٹی کی پارلیمانی پوزیشن اور حکومت بنانے کے لیے درکار سیاسی حمایت کا جائزہ لیا۔

ذرائع کے مطابق آزاد ارکان اسمبلی اور دیگر سیاسی جماعتوں سے ممکنہ رابطوں پر بھی تفصیلی مشاورت ہوئی، جبکہ حکومت سازی کے لیے پارلیمانی اتحاد اور سیاسی ہم آہنگی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں صرف قائد ایوان کے انتخاب تک معاملات محدود نہیں رہے بلکہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر سمیت آزاد کشمیر کے دیگر اہم آئینی و پارلیمانی عہدوں کے لیے ممکنہ امیدواروں کے نام بھی زیر غور آئے۔ صدر ریاست اور موسٹ سینیئر وزیر کے عہدوں سے متعلق بھی پارٹی سطح پر مشاورت کی گئی۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر اور سیکرٹری جنرل چودھری طارق فاروق کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے اہم امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔ دونوں ناموں پر پارٹی قیادت کی جانب سے مزید غور و خوض کے بعد آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے نام کا فیصلہ کیے جانے کا امکان ہے۔

مخصوص نشستوں کے معاملے پر بھی اجلاس میں تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ خواتین، ٹیکنوکریٹ، اوورسیز پاکستانیوں اور علما و مشائخ کی نشستوں کے لیے موصول ہونے والے نام پارٹی قیادت کے سامنے رکھے گئے اور امیدواروں کے انتخاب کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں قائد ایوان، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا عمل آئندہ ہفتے مکمل کیے جانے کا امکان ہے۔ نواز شریف کی حتمی منظوری کے بعد حکومت سازی کے مراحل کو باضابطہ طور پر آگے بڑھایا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں نئی حکومت کی ترجیحات پر بھی غور کیا گیا۔ گڈ گورننس، تعمیر و ترقی، روزگار کے مواقع، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی مسائل کے فوری حل کو آئندہ حکومتی ایجنڈے کا اہم حصہ بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

پارٹی قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آزاد کشمیر میں ایسی حکومت تشکیل دی جائے جو انتظامی طور پر مؤثر، سیاسی طور پر مستحکم اور عوامی مسائل کے حل کے لیے فعال کردار ادا کرے۔