وفاق کی جانب سے 6.4 ارب روپے کی اچانک کٹوتی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

پشاور (آن لائن) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے جولائی کی واجب الادا وفاقی مالیاتی منتقلی میں خیبرپختونخوا کے حصے سے 6.4 ارب روپے کی ایٹ سورس کٹوتی کی ہدایت صوبائی حکومت کی رضامندی کے بغیر جاری کی گئی، جس کی کوئی آئینی یا قانونی بنیاد موجود نہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت اس اقدام کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی اور اپنے آئینی و مالیاتی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی، آئینی اور ادارہ جاتی فورم پر اپنا مقدمہ لڑے گی۔

وزیراعلیٰ کے مطابق وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ سے قبل دیگر صوبوں کی طرح خیبرپختونخوا سے بھی اضافی رقم کی فراہمی کا تقاضا کیا تھا۔ ایف بی آر کی جانب سے 15 ہزار 260 ارب روپے کا ٹیکس وصولی ہدف حاصل ہونے کی صورت میں خیبرپختونخوا کا حصہ تقریباً 175 ارب روپے بنتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے اضافی رقم کی فراہمی کو بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور ان کی اجازت سے مشروط کیا تھا، جبکہ دوسری شرط ضم شدہ اضلاع کو 11ویں قومی مالیاتی کمیشن میں ان کا آئینی اور جائز حصہ دینا تھی۔

سہیل آفریدی کے مطابق وفاقی حکومت نے چھ ماہ کے اندر ضم شدہ اضلاع کو ان کا جائز مالیاتی حصہ دینے کی شرط تسلیم کی اور اسے قومی اقتصادی کونسل کی کارروائی کا حصہ بھی بنایا گیا۔ تاہم یہ بھی طے ہوا تھا کہ مقررہ مدت میں جائز حصہ نہ ملنے کی صورت میں ساتویں قومی مالیاتی کمیشن کے تحت وزیراعظم اور صدر کو سمری بھجوا کر آئینی طریقہ کار کے مطابق آرڈیننس جاری کرنے کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ چونکہ عمران خان سے ملاقات نہیں کرائی گئی، اس لیے خیبرپختونخوا حکومت نے اضافی رقم کی فراہمی سے متعلق مفاہمتی یادداشت نہ منظور کی اور نہ ہی اس پر دستخط کیے۔ اسی اصول کے تحت مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ میں وفاقی گرانٹ کی مد میں اس اضافی رقم کو شامل نہیں کیا گیا اور مجوزہ انتظام کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس کے باوجود 5 اگست کو وفاقی وزارت خزانہ نے خیبرپختونخوا کی جولائی کی وفاقی مالیاتی منتقلی میں سے 6.4 ارب روپے کی ایٹ سورس کٹوتی کی ہدایت جاری کردی، جس کی صوبائی حکومت نے نہ منظوری دی اور نہ ہی اس سے اتفاق کیا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا نے 13 اگست کو اکاؤنٹنٹ جنرل خیبرپختونخوا کو خط کے ذریعے مجوزہ کٹوتی پر صوبائی حکومت کی عدم رضامندی واضح کردی۔ ان کے بقول وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان ایسی کوئی مفاہمتی یادداشت منظور یا دستخط نہیں ہوئی۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ سیاسی اختلاف کا نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے آئینی اور مالیاتی حق کا ہے۔ صوبے کے آئینی مالیاتی حصے میں کسی بھی کٹوتی کے لیے واضح آئینی یا قانونی بنیاد اور صوبائی حکومت کی رضامندی ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی ہدایت پر مشیر خزانہ مزمل اسلم نے اکاؤنٹنٹ جنرل خیبرپختونخوا کے متعلقہ افسران سے فوری ملاقات کی، جس کے بعد صوبائی حکومت کی رضامندی کے بغیر 6.4 ارب روپے کی کٹوتی یا اس حوالے سے کسی بھی کارروائی سے گریز کرنے کی تحریری ہدایات جاری کی گئیں۔

سہیل آفریدی کے مطابق اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو خیبرپختونخوا آفس کو بھی خط کے ذریعے مطلع کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کی واضح رضامندی کے بغیر ایسے کسی لین دین کو درج یا نافذ نہ کیا جائے۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت قومی مالیاتی کمیشن کے تحت اپنے آئینی حق کے حصول کے لیے وفاقی آئینی عدالت میں درخواست بھی دائر کرچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اپنے آئینی، مالیاتی اور قومی مالیاتی کمیشن سے متعلق حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

سہیل آفریدی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ خیبرپختونخوا اپنے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی، آئینی اور ادارہ جاتی راستہ اختیار کرے گا اور صوبے کے مالیاتی حصے کے ایک ایک روپے کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔