آزاد کشمیر کے عوام نے احتجاج اور ہڑتالوں کو ووٹ کی طاقت سے شکست دی، مریم نواز

مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر انتخابات میں ن لیگ کو کامیابی ملی، آزاد کشمیر کے عوام نے مشکل حالات میں بہترین فیصلہ کیا، دنگا فساد، قتل و غارت، خون خرابہ، احتجاج اور ہڑتالوں کو آزاد کشمیر کے عوام نے ووٹ کی طاقت سے شکست دی۔

مری میں ن لیگ آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ شرپسند عناصر پاکستان اور آزاد کشمیر کو لڑانا چاہتے تھے، ان کے لیے شکست فاش ہے، آزاد کشمیر کے عوام کو پتا ہے ان کو کیا چاہیے، ان کو پتا ہے کہ وفاق اور پنجاب میں کیا کام ہو رہا ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے تعمیر و ترقی کو ووٹ دیا، الیکشن بڑا ٹیسٹ نہیں تھا، اب ہمارا ٹیسٹ شروع ہوگیا ہے، ہم نے پہلے دن سے کام کرنا ہے، پروٹوکول اور دعوتوں سے لطف اندوز نہیں ہونا، حکومت بنتے ہی کشمیر کے لیے فوری کام شروع کرنا ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ جدید پاکستان کا ایک بانی ہے اور اس کا نام نواز شریف ہے، جتنی سازشیں ن لیگ کے خلاف ہوتی آئی ہیں شاید ہی کسی اور جماعت کے خلاف ہوئی ہوں، ہمارے قائدین کو بہت مشکل مراحل سے گزرنا پڑا، 2021 کے الیکشن میں جب وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی، مسلم لیگ ن کو 17 اور پی ٹی آئی کو 3 سیٹیں ملیں لیکن رزلٹ کو الٹا دیا گیا، الحمد اللہ مسلم لیگ ن نے اپنی اکثریت واپس چھینی ہے، وہ لوگ جو کہتے تھے کہ ن لیگ کمزور ہوگئی اور ختم ہونے والی ہے ان کو بہترین جواب مل گیا، کسی ایک جماعت کا مستقبل روشن ہے تو وہ ن لیگ ہے۔

پی پی گلگت بلتستان میں جیتی تو دھاندلی کی بات نہیں کی، آزاد کشمیر میں ہار گئی تو دھاندلی کا الزام لگا دیا، مریم نواز

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں اکثریتی پارٹی نہ ہونے کے باوجود ن لیگ نے پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کی دعوت دی، لیکن افسوس ہے کہ آزاد کشمیر میں انہوں نے دھاندلی کے جھوٹے الزامات لگائے، پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں جیتی تو دھاندلی کی بات نہیں کی، آزاد کشمیر میں ہار گئی تو دھاندلی کا الزام لگا دیا۔

17 سال سے ان کی جہاں حکومت ہے وہاں سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، مریم کا پی پی پر طنز

ان کا کہنا تھا کہ لگتا ہے آزاد کشمیر کے لوگوں نے تقاریر غور سے سنیں اور منشور کو دیکھا، جن کے پاس آزاد کشمیر میں دینے کے لیے کچھ نہیں تھا ان کو عوام نے مسترد کیا، سڑکوں کا وعدہ وہ اس لیے نہیں کرسکتے کہ 17 سال سے ان کی جہاں حکومت ہے وہاں سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، وہاں سے لوگ پنجاب آتے ہیں تو تعریف کرتے ہیں۔ بسوں کا وعدہ وہ اس لیے نہیں کرسکتے، انہوں نے اپنے لوگوں کو بسیں نہیں دیں، اگر دی ہیں تو وہ بھی ٹوٹی ہوئی ہیں، صفائی کے نظام کا وعدہ وہ اس لیے نہیں کرسکتے کہ ان کے پورے صوبے میں کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔

پیپلز پارٹی قیادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ جوش میں تقریر میں وہ بھول گئے کہ آزاد کشمیر میں حکومت اور انتظامیہ ان کی اپنی تھی، آزاد کشمیر میں صدر، وزیراعظم، پولیس، انتظامیہ اور عملہ ان کا اپنا تھا، دھاندلی کا الزامات کسی اور پر لگانے سے پہلے تھوڑا لاجک کا خیال رکھنا چاہیے۔