اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن کو واضح برتری حاصل ہوئی ہے اور آزاد کشمیر میں ایک مستحکم اور مضبوط حکومت قائم کی جائے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات کے تینوں مراحل مکمل ہوچکے ہیں اور تیسرے مرحلے کے اختتام پر مسلم لیگ ن 24 نشستیں حاصل کرچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فارمولے کے تحت مسلم لیگ ن کو 3 خواتین اور 3 دیگر مخصوص نشستیں بھی ملیں گی، جن میں سمندر پار کشمیریوں، ماہرین اور علما و مشائخ کی نشستیں شامل ہیں۔ مخصوص نشستوں کے بعد مسلم لیگ ن کی مجموعی نشستوں کی تعداد 30 ہوجائے گی۔
طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ اگلے ہفتے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے گا، جس میں نومنتخب ارکان حلف اٹھائیں گے اور مخصوص نشستوں پر انتخابات بھی ہوں گے۔ اسی ہفتے اسپیکر اور وزیراعظم آزاد کشمیر کا انتخاب بھی مکمل کرلیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر آزاد کشمیر میں ایک مضبوط اور مستحکم حکومت کا قیام ضروری ہے، جو خطے کے مسائل کے حل اور عوامی خدمت کے لیے مؤثر انداز میں کام کرسکے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر انتخابات صاف، شفاف اور قابلِ اعتماد ہوئے۔ کسی بھی بدنظمی یا دھاندلی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کی گئی۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حلقہ ایل اے 6 میرپور میں پولنگ اسٹیشن سے بیلٹ باکس اٹھانے والے امیدوار کو فوری طور پر گرفتار کیا گیا، جو شفاف انتخابات کے لیے انتظامیہ کے عزم کا ثبوت ہے۔
انہوں نے شفاف انتخابات کے انعقاد پر انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور الیکشن کمیشن کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ شفاف انتخابات سے ان اداروں کی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے۔
وفاقی وزیر نے حویلی میں مسلم لیگ ن کے امیدوار محسن عزیز کی جانب سے دھاندلی کی شکایت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ امید ہے الیکشن کمیشن حویلی کے حلقے سے متعلق شکایات کا میرٹ پر ازالہ کرے گا۔






