آزاد کشمیر کے ضلع جہلم ویلی میں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے درمیان تصادم کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی، جبکہ سٹی تھانہ ہٹیاں بالا میں ہنگامہ آرائی کے دوران سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچا۔
پولیس کے مطابق کشیدگی کا آغاز نومنتخب رکن قانون ساز اسمبلی دیوان علی خان چغتائی کے آبائی گاؤں گوہر آباد میں ہوا، جہاں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے درمیان تلخ کلامی دیکھتے ہی دیکھتے پرتشدد تصادم میں تبدیل ہوگئی۔
بعد ازاں دونوں گروپ سٹی تھانہ ہٹیاں بالا پہنچ گئے، جہاں ایک بار پھر جھگڑا شروع ہوگیا۔ ہنگامہ آرائی کے دوران تھانے کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ متعدد گاڑیوں کو بھی جزوی نقصان پہنچا۔
حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا، جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
واقعے کے بعد ضلع بھر سے پولیس کی اضافی نفری طلب کرلی گئی۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ممبر ضلع کونسل فیصل مغل، ممبر ضلع کونسل اسد چغتائی، ٹھیکیدار آزاد مغل سمیت 20 افراد کو گرفتار کرلیا، جبکہ تین گاڑیاں بھی تحویل میں لے لی گئیں۔
پولیس کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ سمیت دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
دریں اثنا ڈپٹی کمشنر جہلم ویلی اور ایس پی جہلم ویلی بھی موقع پر پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔
ضلعی انتظامیہ نے سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے پولیس کو واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔






