لاہور (آئی این پی) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم لیوی، حکومت کی معاشی پالیسیوں، مہنگائی اور بے تحاشا ٹیکسوں کے خلاف 7 اگست کو ملک گیر احتجاج اور سڑکیں جام کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ احتجاج ایک نکتۂ آغاز ہے، ختم نہیں ہوگا۔ اگر حکومت نے اپنے اخراجات کم نہ کیے اور عوام کو ریلیف نہ دیا تو احتجاج کو غیر معینہ مدت تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔
منصورہ میں ایک اہم اور پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 7 اگست پرامن سیاسی مزاحمت کا تاریخی دن ہوگا۔ اس روز کراچی سے خیبر تک تمام شاہراہوں پر عوام کا سمندر نظر آئے گا۔ وکلا، اساتذہ، ڈاکٹرز، طلبہ، مزدور اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد احتجاج میں شریک ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی گولی اور گالی کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی بلکہ پرامن سیاسی جدوجہد کو اپنا آئینی حق سمجھتی ہے۔ احتجاج کے دوران صرف ایمبولینسز کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔
اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ، قائم مقام سیکریٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ، ڈپٹی سیکریٹری رُسل خان بابر، امیر لاہور ضیاء الدین انصاری اور سوشل میڈیا ہیڈ سلمان شیخ بھی موجود تھے۔
امیر جماعت اسلامی نے آزاد کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کشمیر میں نفرتوں کے بیج بونا شروع کر دیے ہیں۔ طاقت، گولی اور خون بہا کر عوام کے دل نہیں جیتے جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے امن کے لیے جرگہ تشکیل دیا اور تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے کیے تاکہ سیاسی اور پرامن حل نکالا جا سکے، تاہم حکومت نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ اپنی ڈیوٹی پوری کرکے بیرون ملک منتقل ہو جانے والے حکمران کشمیریوں کے دکھ کو نہیں سمجھ سکتے۔ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر دونوں جگہ ہمارے اپنے لوگوں کا خون بہہ رہا ہے، جس سے کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے معاشی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں 40 فیصد سے زائد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ پونے تین کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ حکومت روزگار دینے کے بجائے بجلی، گیس، واسا کے بلوں اور پٹرول کی قیمتوں کے ذریعے عوام پر بوجھ ڈال رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 335 روپے فی لیٹر پٹرول کی قیمت نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں تین کروڑ موٹر سائیکل چلانے والے غریب طلبہ اور ملازمین ہیں، جن سے سالانہ اربوں روپے ٹیکس اور پٹرولیم لیوی کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایک سال میں پٹرولیم لیوی کی مد میں 1900 ارب روپے جبکہ مجموعی طور پر عام آدمی سے ساڑھے 8 ہزار ارب روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے بتایا کہ جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے اور اب پٹرول کی روزانہ بڑھتی قیمتوں کو بھی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔
سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسند اقتدار پر قابض حکمران فارم 47 کی پیداوار ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی محض نورا کشتی میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں مریم نواز اور بلاول بھٹو ایک دوسرے کے پول کھول رہے ہیں اور خود اعتراف کر رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) قومی انتخابات میں محض 17 نشستیں جیتی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں پیپلز پارٹی کو قومی اسمبلی کی 7 نشستیں تحفے میں دی گئیں جبکہ ایم کیو ایم، جس نے ایک بھی پولنگ اسٹیشن نہیں جیتا، اسے 15 نشستیں دے کر عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر بلاول بھٹو سچے ہیں تو اپنے فارم 45 سامنے لائیں، جبکہ چیئرمین سینیٹ اور صدر مملکت بھی بتائیں کہ وہ کس فارم کے تحت منتخب ہوئے۔
پنجاب حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پنجاب کو آئیڈیل بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہاں ایک کروڑ 18 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ ان کے مطابق مریم نواز کی حکومت نے 11 ہزار سرکاری اسکول فروخت کر دیے ہیں اور اب کالجز اور یونیورسٹیز کی باری ہے، جبکہ اساتذہ، نرسز اور ڈاکٹرز احتجاج کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حکومت امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا کے جنوبی اور سرحدی اضلاع میں روزانہ قتل و غارت کے واقعات ہو رہے ہیں، لیکن حکومت کے پاس کوئی مؤثر حل نہیں۔
بین الاقوامی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ غزہ اور مشرق وسطیٰ میں عبرتناک شکست کھا چکے ہیں اور عملی طور پر صیہونی لابیوں کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اس مشکل گھڑی میں ایرانی قوم اور مظلوم مسلمان امت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی اقتدار یا ذاتی مفاد کے لیے کوئی ڈیل نہیں کرتی۔ اگر حکمرانوں نے سرکاری اخراجات کم کرکے عوام کو ریلیف نہ دیا تو جماعت اسلامی کا احتجاجی کارواں حکمرانوں کا محاسبہ کرکے ہی دم لے گا۔






