ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کے خلاف درج قتل کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے بعد مقدمے کو کیمیکل رپورٹ کی روشنی میں قتل بالسبب میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق چالان کی اسکروٹنی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر اسداللہ میتلو اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر عارف سیتائی نے کی۔ چالان میں بتایا گیا کہ کراچی یونیورسٹی کی کیمیکل رپورٹ کی بنیاد پر قتل کی دفعہ ختم کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق متوفی کی موت نشے کے باعث ہوئی، تاہم مرنے والے شخص کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی اور نہ ہی اس کا ڈی این اے حاصل کیا جا سکا۔
قانونی ماہرین کے مطابق قتل کے مقدمے میں سزا سزائے موت سے لے کر عمر قید تک ہو سکتی ہے، جبکہ دفعہ 322 (قتل بالسبب) کے تحت جرم ثابت ہونے کی صورت میں ملزم کو دیت کی ادائیگی کا حکم دیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ بغدادی پولیس نے لاش ملنے کے تقریباً ایک ماہ بعد انمول عرف پنکی کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا تھا، جبکہ مقدمے کے مدعی عدالت میں دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان بھی ریکارڈ کرا چکے ہیں۔






