اسلام آباد: پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبادی میں اضافے کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2050 تک ملک کی آبادی 40 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں آبادی کی سالانہ شرح نمو 2.5 فیصد ہے، جبکہ فی خاتون اوسط شرحِ پیدائش 3.6 بچے ہے۔ ماہرین کے مطابق تیزی سے بڑھتی آبادی تعلیم، صحت، روزگار اور دیگر بنیادی سہولتوں پر مسلسل دباؤ بڑھا رہی ہے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آبادی میں اضافے کی شرح کو 1.2 فیصد اور شرحِ پیدائش کو 2 سے کم لانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر سال تقریباً 11 ہزار خواتین حمل یا زچگی کے دوران جان کی بازی ہار جاتی ہیں، جس پر قابو پانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ مانع حمل ادویات پر عائد ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے تاکہ یہ عوام کو کم قیمت پر دستیاب ہو سکیں۔
وفاقی وزیر صحت نے این ایف سی ایوارڈ کے موجودہ فارمولے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وسائل کی تقسیم میں آبادی کو 82 فیصد وزن دیا جاتا ہے، ایسے میں کوئی بھی صوبہ اپنی آبادی کم کرکے اپنے حصے کے وسائل میں کمی نہیں چاہے گا۔
رپورٹ کے مطابق ملک کی تقریباً نصف آبادی معیاری طبی سہولتوں سے محروم ہے، 16 فیصد افراد کو مناسب خوراک دستیاب نہیں، جبکہ تقریباً ڈھائی کروڑ بچے اب بھی اسکول سے باہر ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر آبادی میں اضافہ اسی رفتار سے جاری رہا تو 2050 تک پاکستان کو 66 ہزار نئے اسکول، 6 لاکھ 79 ہزار اساتذہ، تقریباً 6 کروڑ 50 لاکھ نئی ملازمتیں اور 2 لاکھ سے زائد اضافی لیڈی ہیلتھ ورکرز کی ضرورت ہوگی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






