کراچی: بی آر ٹی یلو لائن منصوبے میں 6 ارب روپے سے زائد کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے انکشاف کے بعد چیف سیکرٹری سندھ نے معاملے کی انکوائری کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق منصوبے میں مالی معاملات میں سنگین بے قاعدگیوں کی نشاندہی ہوئی ہے، جس کے بعد سابق اور موجودہ متعلقہ افسران کو وضاحت کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی، ڈائریکٹر پروکیورمنٹ جمن داس، پروجیکٹ ڈائریکٹر کمال حکیم اور ڈپٹی ڈائریکٹر طحہ عزیز کو ریکارڈ سمیت پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن کے مطابق تمام متعلقہ افسران کو منصوبے سے متعلق مکمل دستاویزات اور ریکارڈ ساتھ لانے کا کہا گیا ہے تاکہ الزامات کی مکمل جانچ کی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ بی آر ٹی یلو لائن کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر کی جانب سے قواعد و ضوابط کے خلاف ایڈوانس ادائیگیاں کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ اس معاملے پر سیکرٹری ٹرانسپورٹ نے چیف سیکرٹری سندھ کو خط ارسال کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے۔
حکام کے مطابق انکوائری کے دوران تمام مالی معاملات، ادائیگیوں اور منصوبے کے انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






