اسلام آباد: حکومت پاکستان شہری علاقوں میں فلیٹس اور محدود جگہ والے گھروں میں رہنے والوں کے لیے خصوصی سولر اسکیم متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت صارفین اپنے آبائی علاقوں یا دیہی زمینوں پر سولر سسٹم نصب کر کے اس کی پیداوار کا بجلی کریڈٹ شہروں میں واقع اپنے گھروں یا فلیٹس میں استعمال کر سکیں گے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور متبادل ذرائع کے فروغ کے لیے “سولر وہیلنگ پالیسی” تیار کر رہی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد ان شہریوں کو بھی سولر توانائی سے مستفید کرنا ہے جو فلیٹس یا ایسی رہائش گاہوں میں مقیم ہیں جہاں سولر پینلز نصب کرنے کے لیے مناسب جگہ دستیاب نہیں۔
راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عثمان شوکت نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر اس جدید منصوبے پر کام جاری ہے۔ مجوزہ پالیسی کے تحت شہری اپنے گاؤں یا کسی دوسری ملکیتی زمین پر سولر پلانٹ لگا سکیں گے اور نیٹ میٹرنگ کے ذریعے پیدا ہونے والی بجلی کا کریڈٹ اپنے شہری رہائشی یونٹ کے بجلی بل میں منتقل کروا سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک اور بڑے شہروں میں سولر وہیلنگ کا نظام کامیابی سے رائج ہے، جہاں زمین یا چھت کی کمی کے باوجود صارفین متبادل توانائی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس پالیسی سے نہ صرف شہریوں کے بجلی کے اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ قومی گرڈ پر بوجھ کم کرنے اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






