ممبئی: بالی ووڈ کی معروف اداکارہ تاپسی پنو نے فلم انڈسٹری میں خواتین کے ساتھ عمر کی بنیاد پر ہونے والے امتیازی رویوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ 30 سال کی عمر عبور کرنے کے بعد اداکاراؤں کے لیے اچھے کرداروں کے مواقع محدود ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
اپنی نئی فلم گاندھاری کی ریلیز سے قبل ایک انٹرویو میں تاپسی پنو نے کہا کہ انہوں نے تقریباً 25 سال کی عمر میں ہندی فلم انڈسٹری میں قدم رکھا، لیکن اپنی شناخت بنانے اور نمایاں کردار حاصل کرنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق جب اداکارہ ایک مقام حاصل کرتی ہے تو عموماً اس کی عمر 30 سال سے تجاوز کر چکی ہوتی ہے، جس کے بعد اسے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ رومانوی کرداروں کے لیے موزوں نہیں رہی۔
تاپسی پنو کا کہنا تھا کہ کئی ایسے کردار ہوتے ہیں جن میں کم عمر اداکارہ کی ضرورت نہیں ہوتی، اس کے باوجود فلم ساز اکثر نوجوان چہروں کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرد اداکاروں کے ساتھ ایسا رویہ شاذ و نادر ہی اختیار کیا جاتا ہے۔
اداکارہ نے کہا کہ مسئلہ صلاحیت کا نہیں بلکہ انڈسٹری میں موجود سوچ اور تاثر کا ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانے کے دعوؤں کے باوجود فلمی دنیا میں عمر کے حوالے سے امتیازی رویے اب بھی موجود ہیں۔
انہوں نے جنوبی بھارتی فلم انڈسٹری میں اپنے ابتدائی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ نسبتاً سینئر اداکاروں کے ساتھ کام کرتی تھیں تو بعض کم عمر اداکار ان کے ساتھ کام کرنے سے گریز کرتے تھے۔ ان کے بقول اگر کوئی اداکارہ شاہ رخ خان جیسے بڑے اسٹار کے ساتھ کام کرے تو اس کے کیریئر کو فائدہ پہنچتا ہے، لیکن خواتین کے حوالے سے عمومی رویہ پھر بھی مختلف رہتا ہے۔
تاپسی پنو نے اس صورتحال کو بالی ووڈ اور جنوبی فلمی صنعت میں موجود دوہرے معیار کی واضح مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین فنکاروں کو ان کی عمر کے بجائے ان کی صلاحیت اور کارکردگی کی بنیاد پر مواقع ملنے چاہئیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






