یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد فوج کے سربراہ کو تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے جنرل اولیکساندر سِرسکی کو مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف کے عہدے سے ہٹا کر میخائیلو ڈریپاتی کو نیا فوجی سربراہ مقرر کر دیا۔
زیلنسکی نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کا مقصد فوج کو مزید مؤثر بنانا، محاذ پر بہتر حالات پیدا کرنا اور روس پر دباؤ برقرار رکھنا ہے تاکہ امن کے امکانات پیدا ہو سکیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب کیف اور دیگر شہروں میں کئی روز سے احتجاج جاری تھا۔ مظاہرین فوجی قیادت میں تبدیلی اور سابق وزیر دفاع میخائیلو فیڈوروف کی واپسی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ احتجاج کرنے والوں کا مؤقف تھا کہ سِرسکی فوج میں پرانے سوویت دور کے کمانڈ کلچر کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ فیڈوروف فوجی جدت کاری کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔
زیلنسکی نے سِرسکی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یوکرین کے دفاع، خارکیف اور دیگر اہم فوجی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے نئے فوجی سربراہ میخائیلو ڈریپاتی سے بھی توقع ظاہر کی کہ وہ فوجی حکمت عملی اور جنگی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کریں گے۔
صدر زیلنسکی نے الگ سے میخائیلو فیڈوروف سے بھی ملاقات کی اور انہیں حکومت میں ایک اہم ذمہ داری دینے کی پیشکش کی۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ فیڈوروف نے یہ پیشکش قبول کی یا نہیں، اور آیا فوجی قیادت میں تبدیلی کے بعد احتجاج ختم ہوگا یا نہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






