بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں تعلیمی نظام اور طلبا پر مبینہ پولیس تشدد کے خلاف اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کیا۔ مظاہرے کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کانگریس رہنماؤں راہول گاندھی اور پریانکا گاندھی کو حراست میں لے لیا، تاہم کچھ دیر بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ کانگریسی رہنماؤں نے وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفوں کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ سیاسی کشیدگی ایک نوجوان احتجاجی تحریک کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جس میں طلبا بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر حکومت کی پالیسیوں اور تعلیمی نظام کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ مظاہرین ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے اور حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے احتجاج کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ پولیس کارروائی، لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کے باوجود ان کا حوصلہ کم نہیں ہوا۔ ان کے مطابق وہ موجودہ تعلیمی نظام سے ناخوش ہیں اور اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یہ نوجوان تحریک سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے شروع ہو کر اب عملی احتجاج کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوان نسل کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مسائل کے حل اور حقوق کے لیے کھل کر آواز اٹھانے پر یقین رکھتی ہے۔
جنوبی ایشیا میں حالیہ برسوں کے دوران نوجوانوں اور عوامی تحریکوں نے کئی اہم سیاسی تبدیلیوں کو جنم دیا ہے۔ سری لنکا میں 2022 کے معاشی بحران کے دوران ہونے والے عوامی احتجاج کے نتیجے میں راجا پاکسے خاندان کی حکومت کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ بنگلہ دیش میں 2024 کے طلبا احتجاج نے ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
بھارت میں جاری یہ احتجاج بھی نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے سیاسی کردار اور روایتی نظام سے بڑھتی ہوئی بے چینی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






