//

روزانہ پٹرول کی قیمت میں تبدیلی کا نیا فارمولا کیسے کام کرے گا؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر حکومت پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا یومیہ تعین کرنے کا نیا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ماضی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین سالانہ بجٹ کے ذریعے کیا جاتا تھا، بعد ازاں یہ نظام ماہانہ اور پھر ہر 15 روز بعد قیمتوں کے اعلان میں تبدیل ہوا۔ رواں برس عالمی حالات کے باعث قیمتوں کا تعین ہفتہ وار کیا گیا، جبکہ اب حکومت روزانہ کی بنیاد پر نرخ مقرر کرے گی۔

حکومت نے اس نظام کو ابتدائی طور پر نو ماہ کی آزمائشی مدت کے لیے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس دوران مارکیٹ کی کارکردگی، سپلائی چین، صارفین پر اثرات اور قیمتوں کے استحکام کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل میں مستقل پالیسی کا فیصلہ کیا جا سکے۔

وزارت توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کے مطابق نئے طریقہ کار کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بین الاقوامی خام تیل کی قیمت، پلیٹس عرب گلف اسیسمنٹس اور حقیقی درآمدی لاگت سے منسلک ہوں گی، جس کے باعث عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات مقامی قیمتوں میں زیادہ تیزی سے ظاہر ہوں گے۔

نئے فارمولے کے مطابق اگر پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) گزشتہ سات کاروباری دنوں کے دوران نئی پیٹرولیم کھیپ درآمد کرتا ہے تو اسی کھیپ کے اصل درآمدی پریمیم اور متعلقہ اخراجات قیمتوں میں شامل کیے جائیں گے۔ اگر اس عرصے میں کوئی نئی درآمد نہ ہو تو یکم جنوری سے ریکارڈ کیے گئے اوسط درآمدی پریمیم کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کیا جائے گا تاکہ غیر ضروری اتار چڑھاؤ سے بچا جا سکے۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ نئی پالیسی کے تحت قیمتوں کا اعلان صرف پیر سے جمعہ تک کیا جائے گا، جبکہ ہفتہ اور اتوار کو نرخ برقرار رہیں گے۔

اس نظام کے تحت روزانہ قیمتوں کے تعین کے لیے وزیراعظم یا وفاقی کابینہ سے الگ منظوری درکار نہیں ہوگی، بلکہ مقررہ فارمولے کے مطابق بین الاقوامی قیمتوں اور درآمدی لاگت کی بنیاد پر نرخ خودکار انداز میں مقرر کیے جائیں گے۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL)، کسٹم ڈیوٹی، کلائمیٹ لیوی اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کے مارجن بدستور وفاقی حکومت کے اختیار میں رہیں گے، اور ان میں کسی بھی تبدیلی کے لیے وفاقی منظوری ضروری ہوگی۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close