//

گیس سیکٹر کے گردشی قرضے پر آئی ایم ایف نے نئی شرائط پیش کر دیں

گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کے حل کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے نئی شرائط پیش کر دی ہیں۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری گیس کمپنیوں کے نقصانات کو باضابطہ طور پر مالیاتی ریکارڈ میں شامل کیا جائے، جبکہ ایسی رقوم کو بھی نقصان تصور کیا جائے جن کی وصولی ممکن نہیں رہی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی تجویز ہے کہ نقصانات کو اکاؤنٹس میں شامل کرنے کے بعد گیس کمپنیوں کو دوبارہ سرمایہ فراہم کیا جائے تاکہ ان کی مالی حالت بہتر بنائی جا سکے۔

تاہم حکام کے مطابق ان شرائط پر عملدرآمد کی صورت میں گیس کمپنیوں کے شیئرز کی قدر متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث پٹرولیم ڈویژن کے حکام تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس وقت گیس سیکٹر کا مجموعی گردشی قرضہ تقریباً 3 ہزار 300 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ مجوزہ منصوبے کے تحت تقریباً 1 ہزار 700 ارب روپے کے قرضے کے تصفیے پر غور کیا جا رہا ہے۔

حالیہ ورچوئل مذاکرات میں گردشی قرضے کے سیٹلمنٹ پلان پر حتمی اتفاق نہیں ہو سکا، جس کے بعد معاملہ ستمبر میں دوبارہ زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ پلان آئی ایم ایف کی تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جا سکتا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close