الیکشن کمیشن کا انتخابی دھاندلی روکنے کے لیے بڑا ایکشن

مظفرآباد آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2026 کے لیے باضابطہ ضابطہ اخلاق جاری کر دیا ہے جس کے تحت مختلف سرکاری و انتظامی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق تمام سرکاری ملازمین کے تقرر، تبادلے اور نئی آسامیوں کے قیام پر پابندی ہوگی، جبکہ ناگزیر صورت میں الیکشن کمیشن سے پیشگی اجازت لینا لازم قرار دیا گیا ہے۔

ضابطہ اخلاق کے تحت وزرا اور اراکین اسمبلی کو سرکاری ترقیاتی فنڈز، زکوٰۃ، سوشل ایکشن پلان اور بیت المال فنڈز کی تقسیم سے روک دیا گیا ہے۔ اسی طرح سرکاری سامان جیسے بجلی کے کھمبے، پائپ، لکڑی اور دیگر تعمیراتی مواد کی تقسیم پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

نئی ترقیاتی اسکیموں کے آغاز پر مکمل پابندی ہوگی، تاہم جاری ترقیاتی منصوبے معمول کے مطابق متعلقہ محکموں کے ذریعے جاری رہیں گے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق کوئی بھی امیدوار یا اس کے حامی کسی ترقیاتی منصوبے کا افتتاح نہیں کر سکے گا، جبکہ سرکاری ملازمین (سوائے امن و امان کے فرائض انجام دینے والوں کے) جلسے جلوسوں یا سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

سرکاری وسائل، بشمول سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ بورڈ آف ریونیو اور دیگر ترقیاتی اداروں، بشمول منگلا ڈیم ہاؤسنگ اتھارٹی میں ہر قسم کی الاٹمنٹ اور لیز پر بھی پابندی ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر تادیبی کارروائی کی جائے گی، جس میں سرکاری ملازمین کی معطلی یا امیدواروں کی نااہلی بھی شامل ہو سکتی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close