انتخابات میں تاخیر برداشت نہیں ہوگی! وقت پر الیکشن کرانے کا فیصلہ

مظفرآباد: وزیراعظم ہاؤس مظفرآباد میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے اختتام پر متفقہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا، جس میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین نے مختلف قومی، آئینی اور سیاسی امور پر مشترکہ قرارداد منظور کی۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور بھارت کے زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، سیاسی کارکنوں اور حریت قیادت کی گرفتاریوں سمیت آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی بھارتی کوششوں کی شدید مذمت کی۔

کانفرنس نے آزاد جموں و کشمیر میں جمہوری اور آئینی عمل کے تسلسل کو ریاستی استحکام کی بنیاد قرار دیتے ہوئے جمہوری اداروں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ سیاسی اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، تاہم اسے ریاستی نظم و نسق اور اداروں کو کمزور کرنے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جا سکتا۔

اجلاس نے قومی سلامتی کے اداروں کے کردار کو سراہتے ہوئے انہیں ریاستی استحکام کا اہم ستون قرار دیا اور اس تشویش کا اظہار کیا کہ بھارت سوشل میڈیا اور منظم پروپیگنڈے کے ذریعے ریاستی اداروں اور جمہوری ڈھانچے کے خلاف غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

قرارداد میں واضح کیا گیا کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات آئین اور قانون کے مطابق مقررہ مدت میں منعقد کیے جائیں گے۔ آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور پُرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام ضروری انتظامی، قانونی اور سیکیورٹی اقدامات کیے جائیں گے جبکہ انتخابی عمل کو متاثر یا مؤخر کرنے کی کسی بھی کوشش کا قانون کے مطابق سختی سے سدباب کیا جائے گا۔

اے پی سی نے مہاجرین جموں و کشمیر کی تحریک آزادی کے لیے دی گئی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مہاجرین کی نمائندگی ایک تاریخی اور آئینی حقیقت ہے۔ تاہم انتخابی نظام سے متعلق بعض پیچیدگیوں کے حل کے لیے آئین کے مطابق قانون ساز اسمبلی کے ذریعے اصلاحات کی جا سکتی ہیں۔

قرارداد میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ آئینی اصلاحات منتخب نمائندوں کا اختیار ہیں، اس لیے اس معاملے پر حتمی فیصلہ قانون ساز اسمبلی کرے گی۔ البتہ اس سے قبل سیاسی جماعتوں، بار ایسوسی ایشنز، بار کونسل، سول سوسائٹی اور آئینی ماہرین کی مشاورت سے وسیع مشاورتی عمل شروع کیا جائے گا۔

اجلاس میں مختلف سیاسی، مذہبی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی، جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کو بھی مدعو کیا گیا تھا تاہم وہ اجلاس میں شریک نہ ہوئی۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close