جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک ایران کے خلاف امریکی جنگ میں فوجی طور پر شامل نہیں ہوگا۔
جمعے کو پریس کانفرنس میں صدر لی نے کہا کہ جنوبی کوریا مشرقِ وسطیٰ میں ایسی کوئی فوجی تعیناتی نہیں کرے گا جس سے ملک براہِ راست جنگ یا جنگی کارروائی کا حصہ بنے۔ ان کے مطابق ایران کے خلاف کارروائی کے لیے جنوبی کوریا اپنے فوجی وسائل بھی استعمال نہیں کرے گا۔
تاہم صدر لی نے کہا کہ جنوبی کوریا خطے میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اپنا کردار بڑھانے کا جائزہ لے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارتی جہازوں، خام تیل کی ترسیل اور خطے میں موجود جنوبی کوریائی شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔
جنوبی کوریا پہلے ہی صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری موجودگی رکھتا ہے، جہاں اس کے فوجی قزاقی کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لیتے ہیں، تاہم اس بحری فورس کو ایران کے خلاف جنگ میں براہِ راست استعمال کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔
صدر لی نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ بحری کردار سمیت مختلف آپشنز پر غور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی کوریا کے لیے توانائی کی ترسیل اور اپنے شہریوں کا تحفظ اہم ترجیحات ہیں۔
دوسری جانب امریکا اور جنوبی کوریا کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری معاملات پر مذاکرات بھی جاری ہیں۔ صدر لی کے مطابق دونوں ممالک ایک معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم بعض شرائط جنوبی کوریا کے لیے قابلِ قبول بنانا مشکل ہیں۔
صدر لی نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ممکنہ ملاقات پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے مہینوں میں ایسا رابطہ ممکن ہے، تاہم اس کے لیے کئی عوامل کا سازگار ہونا ضروری ہوگا۔
ان کے مطابق صدر ٹرمپ شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت کے خواہاں ہیں اور جنوبی کوریا امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔






