مظفرآباد: آزاد کشمیر میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران 16 افراد جاں بحق جبکہ 258 مکانات متاثر ہوئے ہیں۔ درجہ حرارت میں اضافے کے باعث برف اور گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے سے ندی نالوں اور دریاؤں میں سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے) سعید الرحمن قریشی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ آزاد کشمیر میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ حالیہ مون سون بارشوں کے دوران 16 افراد جاں بحق اور 258 مکانات کو نقصان پہنچا، جبکہ 22 مال مویشی اور دیگر املاک بھی متاثر ہوئی ہیں۔
ڈی جی ایس ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں کے دوران دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اچانک بلند ہونے کا خدشہ ہے۔ مون سون بارشوں کے متوقع نئے اسپیل کے دوران فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے، جبکہ درجہ حرارت میں اضافے سے برف اور گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔
سعید قریشی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی نے پہاڑی علاقوں میں زمینی کٹاؤ کے خطرات بڑھا دیے ہیں۔ پہاڑی علاقوں کے ندی نالوں میں طغیانی سے آبادیوں اور انفراسٹرکچر کو خطرات لاحق ہیں، جبکہ بدلتے موسمی حالات کے باعث بارشوں کے پیٹرن میں بھی نمایاں تبدیلی آ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی آزاد کشمیر کے لیے بڑا چیلنج بن گئی ہے، حساس علاقوں میں پیشگی حفاظتی اقدامات اور نگرانی بڑھانے کی ضرورت ہے۔
ڈی جی ایس ڈی ایم اے کے مطابق ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔





