امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ایک تازہ قومی سروے کے مطابق صرف 33 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے ٹرمپ کی بطور صدر کارکردگی کو منظور کیا، جو اب تک کی سب سے کم شرح ہے۔
یہ سروے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات میں دو ماہ سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔ ٹرمپ کی کم ہوتی مقبولیت ریپبلکن امیدواروں کے لیے بھی بڑا سیاسی چیلنج بن سکتی ہے۔
*ریپبلکن ووٹرز میں بھی گراوٹ*
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت کے ووٹرز میں بھی پہلے جیسی حمایت نہیں مل رہی۔ صرف 72 فیصد ریپبلکن ووٹرز نے صدر کی مجموعی کارکردگی کی منظوری دی جو مئی کے بعد اس گروپ میں کم ترین سطح ہے۔
اقتصادی معاملات پر صورتحال مزید خراب ہے۔ ریپبلکن ووٹرز میں ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں کی منظوری 53 فیصد تک گر گئی جو پچھلے ماہ کے مقابلے میں تقریباً 8 پوائنٹس کم ہے۔
*مہنگائی بڑی وجہ بنی*
سروے میں معیشت اور روزمرہ اخراجات ٹرمپ کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن کر سامنے آئے۔ تقریباً 57 فیصد ووٹرز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے دور میں ان کی مالی حالت پہلے سے خراب ہوئی ہے۔ مہنگائی، خوراک، توانائی اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے بڑی تعداد میں امریکی حکومت کی معاشی کارکردگی سے ناخوش ہیں۔
*تجارتی پالیسی پر بھی تنقید*
ٹرمپ انتظامیہ کی ٹیرف پالیسی بھی عوامی عدم اطمینان کی وجہ بن رہی ہے۔ کینیڈا سمیت تجارتی شراکت داروں پر نئے محصولات نے قیمتوں اور معاشی دباؤ کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
*وسط مدتی انتخابات کے لیے خطرہ*
سروے میں 46 فیصد ووٹرز کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی سیاسی سرگرمیاں ریپبلکن امیدواروں کے لیے انتخابات جیتنا مزید مشکل بنا رہی ہیں۔ یہ رائے خاص طور پر آزاد ووٹرز میں نمایاں ہے۔
دوسری جانب ڈیموکریٹس کو کانگریس کے لیے ہونے والے عام انتخابی مقابلے میں برتری حاصل ہے اور یہ برتری پچھلے سروے کے مقابلے میں مزید بڑھ گئی ہے۔ اس سے نومبر میں کانگریس کے کنٹرول کے لیے سخت مقابلے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
*خارجہ پالیسی کا اثر*
ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی صرف معیشت تک محدود نہیں۔ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور اس کے نتیجے میں توانائی و قیمتوں کے دباؤ پر بھی عوامی تشویش سامنے آئی ہے۔ ایک اور سروے میں ایران سے متعلق ٹرمپ کی پالیسی کو صرف 31 فیصد نے منظور کیا جبکہ 69 فیصد نے مسترد کیا۔
*ٹرمپ کے سامنے دوہرا امتحان*
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ انتخابات سے پہلے اپنی مقبولیت بحال کر پاتے ہیں۔ صدر پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ ریپبلکن امیدواروں کی مہم میں بھرپور حصہ لیں گے اور اہم ریاستوں میں پارٹی امیدواروں کے لیے مہم چلائیں گے۔
تازہ سروے میں 1,914 رجسٹرڈ ووٹرز شامل تھے اور رپورٹ شدہ غلطی کی حد تقریباً 2.6 فیصد پوائنٹس ہے۔
اس طرح نومبر کے انتخابات سے قبل ٹرمپ کے سامنے ایک طرف معاشی پالیسیوں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے اور دوسری طرف اپنی جماعت کے امیدواروں کو کم ہوتی مقبولیت کے اثرات سے بچانے کا دوہرا چیلنج ہے۔






