امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’’جھیل امریکا‘‘ (Lake America) رکھنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے جمعرات کو جاری کیے گئے ایگزیکٹو آرڈر میں نام کی تبدیلی کا حکم دیا، جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق ایگزیکٹو آرڈر کے تحت امریکی محکمہ داخلہ اور وزیر داخلہ ڈگ برگم کو نام کی تبدیلی کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
جھیل اونٹاریو شمالی امریکا کی پانچ عظیم جھیلوں میں شامل ہے اور اس کی سرحد کینیڈا کے صوبے اونٹاریو اور امریکی ریاست نیویارک سے ملتی ہے۔ یہ جھیل دونوں ممالک کے درمیان جغرافیائی اور اقتصادی اعتبار سے بھی اہمیت رکھتی ہے۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کے دفتر نے نام کی تبدیلی سے متعلق رائٹرز کی جانب سے طلب کیے گئے مؤقف پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تعلقات میں کشیدگی برقرار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات گزشتہ ہفتے تعطل کا شکار ہوگئے تھے، جبکہ تین روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار امریکا اور کینیڈا نے ایک دوسرے کو قرار دیا تھا۔
ٹرمپ کے فیصلے پر کینیڈا کے ممکنہ ردعمل کا انتظار ہے، جبکہ نام کی تبدیلی کے عملی اور بین الاقوامی سطح پر اطلاق سے متعلق مزید تفصیلات بھی سامنے آنا باقی ہیں۔






