ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے حکومت کو امریکی معاشی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے مزاحمتی معیشت کی پالیسیاں اپنانے اور ڈالر پر انحصار کم کرنے کی ہدایت کردی۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے حکام پر زور دیا کہ امریکی مسلط کردہ معاشی جنگ سے نمٹنے کے لیے ایسی پالیسیاں اختیار کی جائیں جن کے ذریعے ملکی معیشت کا ڈالر پر انحصار کم کیا جاسکے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے قومی یکجہتی اور عوام کے حوصلے کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ ایسے حوصلہ شکن بیانات سے گریز کیا جائے جو قومی جذبے اور عوام کے حوصلے کو کمزور کرسکتے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح کیا کہ سماجی اتحاد کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ دشمن کی جانب سے پیدا کیے جانے والے دباؤ سے ایران کی مشکلات میں اضافہ ضرور ہوتا ہے، تاہم بہتر حکومتی انتظام، ملکی وسائل پر بھروسا اور عوامی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا کر ملک معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔
انہوں نے حکام پر زور دیا کہ ملکی مسائل اور کمزوریوں کو اس انداز میں بیان نہ کیا جائے جس سے عوام کا حوصلہ پست ہو یا مخالفین کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتِ حال میں ایران کی طاقت، عوام کے اتحاد اور ملک میں موجود صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ضروری ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے باعث مختلف معاشی اور توانائی کے مسائل کا سامنا ہے۔
اس کے علاوہ امریکی پابندیوں اور آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں میں کمی نے بھی ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
ایرانی قیادت کی جانب سے قومی اتحاد، ملکی پیداوار اور معاشی خود انحصاری پر زور کو موجودہ جنگی اور معاشی مشکلات کے دوران ملک میں استحکام برقرار رکھنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔





