راولپنڈی(آن لائن) جڑواں شہروں میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے باعث متعدد نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے، جبکہ نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرے کے نشان سے تجاوز کرنے پر خطرے کے سائرن بجا دیے گئے۔
نالہ لئی کے اطراف آبادیوں اور نشیبی علاقوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور شہری محفوظ مقامات اور گھروں کی چھتوں پر منتقل ہوگئے۔ نالہ لئی سمیت دیگر برساتی نالوں اور دریائے سواں میں طغیانی کے باعث ایک خاتون دریائے سواں کی لہروں کی نذر ہوگئی۔
راولپنڈی اور اسلام آباد میں شدید بارش کے باعث کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 22 فٹ سے تجاوز کرگئی، جبکہ گوالمنڈی پل کے مقام پر پانی کی سطح 18 فٹ تک پہنچ گئی۔ نالہ لئی کے اطراف خطرے کے سائرن بجا کر آبادیوں کو انخلا کی ہدایت بھی کی گئی۔
جڑواں شہروں میں مجموعی طور پر 113 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ شدید بارش کے باعث مری روڈ، راول روڈ، جاوید کالونی، ٹیپو روڈ، ڈھوک الٰہی بخش، صادق آباد، ڈھوک کھبہ، فوجی کالونی اور ڈھوک کالا خان سمیت متعدد نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے۔
بارش، سیوریج اور نکاسیٔ آب کا پانی شہریوں کے گھروں اور دکانوں میں داخل ہوگیا۔ مسلسل بارش کے باعث ریسکیو 1122، واسا اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کردیا گیا، جبکہ ریسکیو اور واسا کی ٹیمیں بھاری مشینری کے ہمراہ نالہ لئی کے حساس مقامات اور دیگر نشیبی علاقوں میں پہنچ گئیں۔
واساکے ترجمان کے مطابق سیدپور میں 71 ملی میٹر، گولڑہ میں 113 ملی میٹر، بوکرہ میں 45 ملی میٹر، پی ایم ڈی میں 57 ملی میٹر، شمس آباد میں 45 ملی میٹر، کچہری میں 33 ملی میٹر، پیرودہائی میں 51 ملی میٹر اور گوالمنڈی میں 45 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
شدید بارش کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آنے کے بعد بارش رکنے پر واسا کی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پانی نکال کر سڑکیں اور گلیاں صاف کردیں۔
دوسری جانب ریسکیو 1122 کے مطابق ڈی ایچ اے فیز ون کے قریب دریائے سواں میں ایک خاتون کے ڈوبنے کی اطلاع موصول ہوئی، جس پر ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائی شروع کردی۔





