آزاد کشمیر میں انتخابات موخر کیے جائیں، الیکشن کمیشن الیکشن شیڈول واپس لے، پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کا مطالبہ،

مظفرآباد: پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے صدر چوہدری محمد یاسین نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر الیکشن کمیشن انتخابات کا شیڈول واپس لے اور تمام فریقین سے مشاورت کا عمل آگے بڑھایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ریاست کو درپیش مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کے باعث ریاستی استحکام کو ترجیح دینا ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی سیاست کا مرکز و محور ہمیشہ مسئلہ کشمیر رہا ہے اور شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے کشمیر کاز کو عالمی سطح پر بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔

چوہدری یاسین نے کہا کہ گزشتہ سات ماہ کے دوران عوامی مسائل کے حل اور جمہوری نظام کی بحالی کے لیے بھرپور کوششیں کی گئیں، تاہم حالیہ کشیدہ صورتحال میں ایک طرف سیکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہوئے جبکہ دوسری جانب ریاست کے اپنے شہری بھی متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مہاجرین نشستوں کے انتخابات کا شیڈول عجلت میں جاری کیا گیا اور احتجاجی کال سے محض تین روز قبل اس کا اعلان مناسب فیصلہ نہیں تھا۔ ان کے مطابق مذاکراتی عمل میں شامل تمام فریقین نے عوامی ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات تسلیم کر لیے تھے اور 38 میں سے 37 مطالبات پر عملدرآمد بھی ہو چکا تھا، جبکہ صرف مہاجرین نشستوں سے متعلق آئینی معاملہ زیر غور تھا۔

چوہدری یاسین نے کہا کہ مہاجرین کی نمائندگی کے حوالے سے آئینی اور قانونی طور پر متبادل راستے موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عوامی ایکشن کمیٹی سے ایک ہفتے کی مہلت طلب کی گئی تھی لیکن اس درخواست کو قبول نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں انتخابات کا انعقاد مشکل دکھائی دیتا ہے اور ریاستی مفاد میں انہیں موخر کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کسی بھی قسم کے تصادم یا محاذ آرائی کے حق میں نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں دشمن قوتیں، خصوصاً بھارت، صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “بارہ مہاجرین نشستیں انسانی جانوں سے زیادہ قیمتی نہیں ہو سکتیں” اور تمام مسائل کا حل مذاکرات، سیاسی اتفاقِ رائے اور جمہوری عمل میں مضمر ہے۔

پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں اشیائے خورد و نوش کی قلت پیدا ہونا شروع ہو گئی ہے اور ریاست اس وقت سنگین مشکلات سے دوچار ہے، لہٰذا تمام سیاسی قوتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

اس موقع پر آزاد کشمیر کے سینئر وزیر میاں عبدالوحید نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ریاست کو بچانا سب سے اہم ضرورت ہے اور آزاد کشمیر مزید کشیدگی اور تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ فوری مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کیا جائے۔

میاں عبدالوحید نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے اور پاکستان کشمیریوں کی منزل تھا، ہے اور رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں اور پاکستان سے محبت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیر اور پاکستان کے تعلقات میں دراڑ ڈالنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ شہداء اور متاثرین سب ہمارے اپنے ہیں، اس لیے حالات کو مزید خراب ہونے سے بچایا جانا چاہیے۔ انہوں نے اوورسیز کشمیریوں اور پاکستانیوں سے بھی اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود ریاستی مفاد کو مقدم رکھا جائے۔

سینئر وزیر نے زور دیا کہ تمام سیاسی جماعتیں اور عوام ایک ہی مقصد کے لیے متحد ہیں اور موجودہ بحران کا حل صرف مذاکرات، افہام و تفہیم اور مشاورت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی بھی وقت ہے کہ تمام فریقین مل بیٹھ کر مسئلے کا قابل قبول حل نکالیں اور انتخابات کو موخر کرنے پر غور کیا جائے۔

پریس کانفرنس میں سابق صدر و وزیراعظم سردار یعقوب خان، سیکرٹری اطلاعات جاوید ایوب، جاوید بڈھانوی، سردار ضیا القمر، چوہدری قاسم مجید، یاسر سلطان اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close