واشنگٹن کے ساتھ خفیہ رابطوں کا دعویٰ، پاسدارانِ انقلاب کی تردید

ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کر دی ہے کہ واشنگٹن اور پاسداران انقلاب کی قیادت کے درمیان غیر سرکاری ذرائع سے رابطے جاری ہیں۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے ٹرمپ کے دعوے کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت ایرانی پاسداران انقلاب کے نمائندوں اور امریکی حکام کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔

حسین محبی نے کہا کہ پاسداران انقلاب کے نمائندوں اور امریکیوں کے درمیان اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ٹرمپ کا جھوٹ ہے، یہ محض ایک ایسا وہم ہے جو جنگ میں شکست اور مایوسی سے پیدا ہونے والے اوہام اور ڈراؤنے خوابوں کی خوراک سے پل رہا ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ واشنگٹن غیر سرکاری راستوں کے ذریعے ایرانی پاسداران انقلاب کی قیادت سے رابطے میں ہے۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں ایران کے معاملے میں کوئی جلدی نہیں ہے اور انہوں نے ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ رابطے کے پسِ پردہ راستوں کا حوالہ دیا۔ امریکی صدر کے مطابق ہم ایران میں پاسداران انقلاب کے حکام سے براہ راست بات چیت کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایران سے ’سفید جھنڈا بلند‘ کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ امریکی بحری حصار ایرانی حکومت پر نئے معاشی دباؤ کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ (ایرانی) پوکر کے کھیل میں ماہر ہیں، لیکن وہ دم توڑ رہے ہیں۔

دوسری جانب ایک خبر رساں ویب سائٹ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی انتظامیہ نے مئی کے وسط میں پاسداران انقلاب کی قیادت کے ساتھ خفیہ رابطے کا ایک راستہ اختیار کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کو خدشہ تھا کہ سرکاری ایرانی مذاکرات کار جنگ کے خاتمے سے متعلق حتمی فیصلے کرنے کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتے۔ مذاکرات سے براہ راست واقف تین ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ نے عراق کے علاقے کردستان کے صدر نچیروان بارزانی کو خفیہ ثالث کا کردار سونپا تھا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ نچیروان بارزانی کے امریکی اور ایرانی حکام، بالخصوص پاسداران انقلاب کی اہم شخصیات کے ساتھ قریبی تعلقات اور اعتماد موجود ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ پہلی مرتبہ سامنے آنے والی تفصیلات میں شامل ہے اور اس سے ایران کے ساتھ امریکی مذاکرات کی پیچیدگی کا اندازہ ہوتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب تہران میں حقیقی فیصلہ سازی کا اختیار رکھنے والے فریق کے بارے میں ابہام موجود تھا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ امریکا اور ایران بعد ازاں ایک مفاہمت کی یادداشت تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے، تاہم یہ اتفاقِ رائے زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا اور جلد ہی ختم ہو گیا۔