سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے تمام مقدمات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کتنے مقدمات میں سزا یافتہ ہیں؟ بانی پی ٹی آئی کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا میڈیکل ریکارڈ دینے میں کیا مسئلہ ہے؟ جو مواد دیا گیا وہ صرف میڈیکل رپورٹ کی سمری ہے، آئندہ سماعت سے قبل تمام ریکارڈ جمع کرایا جائے، ریکارڈ عدالت میں آئے گا تو وہ خفیہ نہیں رہے گا۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف ایڈووکیٹ کے مطابق عمران خان کے خلاف 200 سے زائد مقدمات درج ہیں۔ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں 3 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جو بعد میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر دی۔ سائفر کیس میں 10 سال قید کی سزا کو بھی ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا، اس کے علاوہ نکاح کیس میں 7 سال سزا ہوئی تھی جس میں وہ اور ان کی اہلیہ بری ہو گئے تھے۔ القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ کیس ٹو میں بھی احتساب عدالتوں کی جانب سے سزائیں سنائی گئیں جن کے خلاف اپیلیں اور سزاؤں کی معطلی کی کارروائیاں عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ بہنوں کی ملاقات کے حوالے سے کیا کہتے ہیں؟ جس پر ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو ملاقات نہیں ہو گی۔ جسٹس شاہد نے کہا کہ اگر وہ قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو آپ بھی کریں گے؟ بہنوں سے ملاقات کوئی احسان نہیں، ان کا بنیادی حق ہے، ریاست کا کام نہیں کہ قانون کی خلاف ورزی کرے۔ جسٹس شاہد نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایات پر عمل کیوں نہیں ہو رہا، ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ بہنوں کی تین سال میں 48 ملاقاتیں کروائی گئی ہیں۔ جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ ایک بات طے کر لیں کہ پی ٹی آئی بانی کی صحت پر سیاست نہیں کرے گی، ملاقاتوں کے بعد باہر آ کر سیاست نہ کریں۔ سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر جیل سپرنٹنڈنٹ کو بھی طلب کر لیا۔ عدالت نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت ملے گی یا نہیں، وقفے کے بعد فیصلہ کریں گے۔






