امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں نئی تعمیر کے معاملے پر ایک اور عدالتی دھچکا لگ گیا۔ امریکا کی ایک وفاقی اپیل عدالت نے جمعہ کو ٹرمپ انتظامیہ کو وائٹ ہاؤس کے منہدم کیے گئے ایسٹ ونگ کی جگہ 400 ملین ڈالر کے بال روم کی تعمیر روکنے کا حکم دے دیا۔ واشنگٹن ڈی سی سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے 2-1 کی اکثریت سے وائٹ ہاؤس میں نئے بال روم کی تعمیر کے منصوبے کو غیر قانونی قرار دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ہر صدر وائٹ ہاؤس کا عارضی مکین ہوتا ہے، مالک نہیں، اور وہ کانگریس کی منظوری کے بغیر عمارت کی بنیادی نوعیت تبدیل نہیں کرسکتا۔
عدالتی فیصلے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے قومی سطح پر شرمندگی قرار دیا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی مرمت اور سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے نئے منصوبے کی اشد ضرورت ہے اور انہیں یہ اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔ ان کے مطابق منصوبے میں وائٹ ہاؤس کی سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے ساتھ چھت پر ایک بڑے ڈرون پورٹ کی تعمیر بھی شامل ہے۔
ٹرمپ نے عدالتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وائٹ ہاؤس کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا اور اس نوعیت کا فیصلہ اعلیٰ ترین سطح پر قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ فیصلے میں ان ججز کا کردار ہے جنہیں سابق صدور براک اوباما اور جو بائیڈن نے تعینات کیا تھا، تاہم انہوں نے اپنے تعمیراتی اور سیکیورٹی منصوبے پر عمل درآمد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔






