دنیا کا مہنگا ترین پیٹریاٹ میزائل سسٹم کیا ہے اور عالمی سطح پر اس کے اسٹاک میں کمی کیوں ہو رہی ہے؟

امریکا کا تیار کردہ پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم، جو پہلی بار 1991 کی خلیجی جنگ میں استعمال ہوا تھا، آج دنیا کے جدید ترین فضائی دفاعی نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ تاہم رواں سال اس نظام کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجوہات یوکرین میں روسی حملے اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگیں ہیں۔ ان تنازعات کے باعث دشمن کے میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے والے پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کے عالمی ذخائر پر شدید دباؤ پڑا ہے۔

یوکرین روس کی جانب سے ہونے والے بیلسٹک میزائل حملوں کے دفاع کے لیے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کا منتظر ہے، لیکن امریکا اور خلیجی ممالک کے ذخائر مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث متاثر ہوئے ہیں، جبکہ بعض یورپی ممالک اپنے دفاعی تقاضوں کے باعث یوکرین کو میزائل فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔

پیٹریاٹ ایک موبائل زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل ڈیفنس سسٹم ہے، جسے مختلف موسموں میں طویل فاصلے تک فضائی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ 1980 کی دہائی میں تیار کیے گئے اس نظام کو وقت کے ساتھ جدید بنایا جاتا رہا ہے اور توقع ہے کہ یہ 2048 تک سروس میں رہے گا۔ ایک عام پیٹریاٹ بیٹری میں ریڈار، کنٹرول سسٹم، پاور یونٹ، لانچرز اور معاون گاڑیاں شامل ہوتی ہیں۔

یہ نظام مختلف اقسام کے انٹرسیپٹرز کے ذریعے دشمن کے طیاروں، ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائلوں اور کروز میزائلوں کو فضا میں ہی نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس کی کارکردگی استعمال کیے جانے والے انٹرسیپٹر پر منحصر ہوتی ہے۔ پرانے پی اے سی-2 انٹرسیپٹر میں وارہیڈ ہدف کے قریب پہنچ کر پھٹتا ہے، جبکہ جدید پی اے سی-3 فیملی کے میزائل ’’ہِٹ ٹو کِل‘‘ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں، یعنی براہِ راست ہدف سے ٹکرا کر اسے تباہ کرتے ہیں۔