‘مکّہ دفاعی معاہدہ’: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ ایک دوسرے کی مدد کس طرح کریں گے؟

سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جسے مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کا نام دیا گیا ہے۔ معاہدے کا بنیادی مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ اس میں یہ اصول بھی شامل ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

اس نئے دفاعی اتحاد کے پاس مجموعی طور پر 31 لاکھ 18 ہزار سے زائد فوجی اہلکار موجود ہیں، جن میں فعال فوج، ریزرو فورس اور پیراملٹری اہلکار شامل ہیں۔ پاکستان 17 لاکھ 10 ہزار اہلکاروں کے ساتھ سب سے آگے ہے، جبکہ ترکیہ کے پاس 10 لاکھ 11 ہزار اور سعودی عرب کے پاس 3 لاکھ 97 ہزار عسکری اہلکار ہیں۔ فضائی قوت کے لحاظ سے تینوں ممالک کے پاس مجموعی طور پر 3 ہزار 415 جنگی طیارے ہیں، جن میں پاکستان کے 1 ہزار 397، ترکیہ کے 1 ہزار 101 اور سعودی عرب کے 917 طیارے شامل ہیں۔

بحری قوت میں تینوں ممالک کے پاس مجموعی طور پر 344 بحری جہاز ہیں، جن میں 38 فریگیٹس شامل ہیں۔ ترکیہ کے پاس 17، سعودی عرب کے پاس 12 اور پاکستان کے پاس 9 فریگیٹس ہیں۔ زیرِ سمندر دفاع کے لیے اتحاد کے پاس 22 آبدوزیں موجود ہیں، جن میں ترکیہ کی 14 اور پاکستان کی 8 آبدوزیں شامل ہیں، جبکہ سعودی عرب کے پاس فی الحال آبدوز موجود نہیں۔

زمینی جنگی صلاحیت میں تینوں ممالک کے پاس مجموعی طور پر 6 ہزار 46 ٹینکس ہیں، جن میں پاکستان کے 2 ہزار 677، ترکیہ کے 2 ہزار 284 اور سعودی عرب کے 1 ہزار 85 ٹینکس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اتحاد کے پاس 2 ہزار 87 خودکار توپیں، 3 ہزار 821 کھینچی جانے والی توپیں اور 1 ہزار 216 راکٹ لانچرز موجود ہیں۔

دفاعی بجٹ کے اعتبار سے بھی یہ اتحاد نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ تینوں ممالک کا مجموعی سالانہ دفاعی بجٹ تقریباً 124.5 ارب ڈالر بتایا گیا ہے، جس میں سعودی عرب 64 ارب ڈالر، ترکیہ 51.4 ارب ڈالر اور پاکستان تقریباً 10 ارب ڈالر مختص کرتا ہے۔ پاکستان اس اتحاد کی واحد جوہری طاقت ہے، جس کے پاس 190 سے زائد جوہری وارہیڈز ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ خطے میں طاقت کے توازن میں اہم تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے پاس ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی مختلف صلاحیتیں موجود ہیں، جن میں ترکیہ کی دفاعی صنعتی طاقت، سعودی عرب کی مالی استعداد اور پاکستان کا فوجی تجربہ و تزویراتی ڈیٹرنس شامل ہیں۔ تاہم بعض ماہرین کے مطابق اس معاہدے کو امریکا کا مکمل متبادل سمجھنے کے بجائے اضافی سیکیورٹی اور اسٹریٹجک آپشن کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

ایران کے بعض حلقوں نے معاہدے پر تنقید کی ہے اور اسے سیکیورٹی کی ضمانت کے لیے ناکافی قرار دیا ہے، جبکہ اسرائیل اور امریکا کی جانب سے تاحال اس پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اگرچہ یہ سوال ابھی موجود ہے کہ کسی ایک رکن ملک پر حملے کی صورت میں باقی دونوں ممالک عملی طور پر کس حد تک فوجی مداخلت کریں گے، تاہم معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور ممکنہ جارحیت کے خلاف مشترکہ ڈیٹرنس کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔