//

ایران پر حملوں سے متعلق امریکی قیادت میں اختلافات، جے ڈی وینس اور عسکری حکام کے خدشات سامنے آگئے

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے ایران کے خلاف جنگ کو مزید وسعت دینے کے ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق یہ خدشات اس وقت سامنے آئے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں پر غور کر رہے تھے۔ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں جنرل ڈین کین نے صدر ٹرمپ کو ممکنہ فوجی اقدامات کے نتائج، خطرات اور طویل مدتی اثرات سے آگاہ کیا۔

رپورٹس کے مطابق جنرل ڈین کین نے امریکی اسلحہ ذخائر، طویل جنگ کے ممکنہ اثرات اور دیگر عسکری چیلنجز پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج صدر کے احکامات پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم کسی بھی فوجی اقدام کے ممکنہ نتائج کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں اسلحے کے ذخائر اور جنگی حکمت عملی سے متعلق دیگر معاملات پر بھی غور کیا گیا۔ امریکا نے تقریباً دو ہفتوں تک جاری فضائی حملوں کے بعد فی الحال ایران کے خلاف بمباری روک دی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ فیصلہ مستقل ہے یا مستقبل میں کارروائیاں دوبارہ شروع ہو سکتی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے، تاہم انہوں نے اپنے مذاکرات کاروں کو سفارتی رابطے جاری رکھنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

امریکی حکام اور تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن میں ایران کے خلاف آئندہ حکمت عملی پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں، جہاں فوجی اقدامات کے ساتھ سفارتی راستوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close