//

جین زی احتجاج سے مودی حکومت کی گھبراہٹ: دھرمیندر پردھان کے اچانک استعفے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے بعد بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے سے متعلق سیاسی صورتحال پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق کئی ہفتوں سے جاری احتجاج کے بعد حکومت اور طلبہ تنظیم کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں وزیرِ تعلیم نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا۔

احتجاج کی وجہ میڈیکل داخلہ امتحان نیٹ کے مبینہ پرچہ لیک معاملے پر طلبہ کا شدید ردعمل تھا۔ احتجاجی طلبہ کا مرکزی مطالبہ دھرمیندر پردھان کا استعفا تھا، جس پر وہ مسلسل قائم رہے۔

رپورٹس کے مطابق حکومت اور طلبہ نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے دوران احتجاجی قیادت نے اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا اور حکومت کو مہلت دی کہ اگر وزیرِ تعلیم کے خلاف فیصلہ نہ کیا گیا تو احتجاج دوبارہ شروع کیا جائے گا۔

مذاکرات کے بعد حکومت نے امتحانی نظام میں اصلاحات، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی میں تبدیلیوں اور پرچہ لیک کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا۔ این ٹی اے کے بعض اہلکاروں کے خلاف کارروائی بھی کی گئی، تاہم طلبہ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ان کا فوری مطالبہ صرف وزیرِ تعلیم کا استعفا ہے۔

بعد ازاں دھرمیندر پردھان نے اپنا استعفا وزیراعظم نریندر مودی کو بھیج دیا، جس کے بعد احتجاجی تنظیم نے مظاہرے ختم کرنے کا اعلان کیا اور طلبہ سے پرامن طور پر واپس جانے کی اپیل کی۔

حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی کہ احتجاج میں شریک طلبہ کے خلاف مقدمات درج نہیں کیے جائیں گے اور نیٹ پرچہ لیک معاملے سے متاثرہ طلبہ کے خاندانوں کو قواعد کے مطابق مالی مدد فراہم کی جائے گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق حکومت کو خدشہ تھا کہ طلبہ تحریک ملک کے دیگر حصوں تک پھیل سکتی ہے، جس سے سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ وزیرِ تعلیم کے استعفے کے بعد پارلیمانی معاملات اور حکومت کے لیے سیاسی چیلنجز کس حد تک کم ہوں گے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close