کروڑوں روپے کی ایل پی جی گیس چوری کا بڑا کیس سامنے آ گیا

 امریکہ ، اسرائیل اور ایران میں جاری کشیدگی کے باعث پوری دنیا میں  گیس کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس دوران بھارت کی ریاست  چھتیس گڑھ میں ایل پی جی چوری کا بڑا کیس سامنے آیا ہے۔ مقامی پولیس نے ایک ایسے گروہ کا پردہ فاش کیا ہے جس نے مبینہ طور پر 90 میٹرک ٹن سے زیادہ ایل پی جی گیس چوری کرکے بلیک مارکیٹ فروخت کردی۔ چوری کی گئی گیس کی قیمت تقریباً 1.5 کروڑ بھارتی روپے(ساڑھے 4 کروڑ سے زائد پاکستانی روپے) بتائی جا رہی ہے۔

پولیس کے مطابق چوری کی گئی گیس ان ٹینکروں سے نکالی گئی تھی جنہیں گزشتہ سال ایک دیگر گیس چور معاملے میں ضبط کیا گیا تھا۔ پورا معاملہ دسمبر 2025 سے منسلک ہے جب سنہورا علاقے کے جنگل میں پولیس نے 6 ایل پی جی ٹینکر برآمد کیے تھے۔ الزام تھا کہ ایک گروہ ٹینکروں سے گیس نکالنے کے لیے انہیں وہاں لے گیا تھا۔ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے بتایا کہ افسران کی ایک ٹیم نے مشکوک سرگرمی دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی تھی، جس کے بعد ایف آئی آر درج کر ٹینکر ضبط کیے گئے تھے۔ یہ ٹینکر مارچ تک پولیس کی نگرانی میں رہے۔رواں سال مارچ میں بڑھتی گرمی اور حفاظتی انتظامات کی کمی کے پیش نظر پولیس نے ضلع کلکٹر سے ٹینکروں کی ذمہ داری لینے کی اپیل کی۔ افسران کے مطابق 30 مارچ کو ٹینکر محکمہ خوراک کو سونپ دیے گئے۔ بعد میں یہ ٹینکر رائے پور واقع ایک ایل پی جی تقسیم کرنے والی کمپنی کے مالک سنتوش ٹھاکر کے قبضے میں پہنچ گئے۔ الزام ہے کہ ٹینکر سونپنے سے قبل ان میں موجود گیس کا وزن نہیں کرایا گیا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ٹینکروں کو رائے پور کے اورلا گاؤں واقع کمپنی کے احاطے میں لے جایا گیا، جہاں 30 مارچ سے 5 اپریل کے درمیان گیس چوری کی گئی۔ اس کے بعد 6 اور 8 اپریل کو ٹینکروں کا وزن مہاسمنڈ فوڈ آفیسر آفس میں کرایا گیا۔ اس چوری کا انکشاف تب ہوا جب ٹینکروں کے اصلی ٹرانسپورٹر انہیں واپس لینے تھانے پہنچے۔ تحقیقات میں پتہ چلا کہ ٹینکروں سے گیس غائب ہے۔ اس کے بعد انہوں نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔ پولیس کے مطابق ٹینکروں میں لگے جی پی ایس سسٹم سے تصدیق ہوئی کہ گاڑی ملزم کی گیس ایجنسی کے پلانٹ تک گئے تھے۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزم کی کمپنی نے اپریل میں صرف 47 ٹن ایل پی جی خریدی تھی۔ ان کا شروعات اسٹاک صفر تھا، اس کے باوجود 107 ٹن گیس فروخت کر دی گئی۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close