اوٹاوا: کینیڈین پارلیمنٹ میں کینیڈین سیکیورٹی انٹیلی جنس سروس کی ایک رپورٹ پیش کی گئی جس میں بھارت پر کینیڈا کے اندرونی معاملات میں خفیہ مداخلت اور اثر و رسوخ استعمال کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کینیڈا میں سیاسی شخصیات اور صحافیوں پر خفیہ دباؤ ڈالنے اور رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوششیں کرتا رہا ہے۔ کینیڈین انٹیلی جنس کے مطابق بھارت کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جو کینیڈا کی خودمختاری میں مداخلت کرتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کینیڈا میں خالصتان تحریک کو ایک قانونی اور سیاسی سرگرمی سمجھا جاتا ہے اور غیر پُرتشدد انداز میں اس کی حمایت کرنا کینیڈین قانون کے تحت جرم نہیں ہے۔
انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق بھارتی اہلکار کینیڈا میں مقیم سکھ برادری پر اثر انداز ہونے، تنقید کو دبانے اور خوف و دباؤ پیدا کرنے کے لیے نگرانی اور مختلف طریقوں سے جبر استعمال کرتے رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بعض بھارتی حکام نے کینیڈین سیاستدانوں سے خفیہ رابطے کر کے پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کینیڈا میں بھارتی حمایت یافتہ بعض مجرمانہ گروہ بھی سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔
کینیڈین انٹیلی جنس نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر ملکی دباؤ اور مداخلت کے معاملات پر سخت نگرانی رکھے اور ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے محتاط رویہ اختیار کرے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






