ٹرمپ کا روس اور یوکرین میں 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان تین روزہ جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان 9، 10 اور 11 مئی کو جنگ بندی نافذ رہے گی۔ ان دنوں دونوں ممالک میں یومِ فتح کی تقریبات بھی منعقد کی جائیں گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ دن دوسری عالمی جنگ میں سوویت یونین کی فتح کی یاد میں منایا جاتا ہے، جس میں روس اور یوکرین ایک ساتھ شامل تھے۔

امریکی صدر کے مطابق جنگ بندی کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ایک، ایک ہزار قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں مسلسل پیش رفت ہو رہی ہے۔

یاد رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے 29 اپریل کو ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے بعد ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ عارضی جنگ بندی پر کام جاری ہے۔

اس سے قبل روس بھی 8 اور 9 مئی کے لیے جنگ بندی کا اعلان کر چکا ہے تاکہ دوسری جنگِ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت یونین کی فتح کی تقریبات اور ماسکو کے ریڈ اسکوائر میں فوجی پریڈ پرامن ماحول میں منعقد کی جا سکے۔

دوسری جانب یوکرین نے بھی منگل کی رات سے غیر معینہ مدت کی جنگ بندی کی تجویز دی تھی اور روس سے اس پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا تھا۔

ادھر یوکرین کے اعلیٰ مذاکرات کار رستم عمروف امریکا کے شہر میامی پہنچ گئے ہیں جہاں وہ امریکی حکام سے جنگ بندی اور امن مذاکرات کے سلسلے میں اہم ملاقاتیں کریں گے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات گزشتہ چند ماہ سے تعطل کا شکار ہیں، جبکہ مذاکرات میں سب سے بڑا تنازع یوکرین کے مشرقی علاقے ڈونیٹسک پر ہے۔

ماسکو کا مطالبہ ہے کہ یوکرین اپنی فوجیں ان علاقوں سے واپس بلائے جن پر روس مکمل قبضہ حاصل نہیں کر سکا، جبکہ یوکرین نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں سے دستبردار نہیں ہوگا۔

روس اور یوکرین ماضی میں ایک دوسرے پر اعلان کردہ جنگ بندیوں کی خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کرتے رہے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close