امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک بڑا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف جاری معاشی مہم کے تحت اس کے تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو کرنسی اثاثے ضبط کر لیے ہیں۔
فاکس بزنس نیٹ ورک کے پروگرام ’کڈلو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ”ہم نے ان (ایران) کے تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے قبضے میں لیے ہیں اور ان کے ڈیجیٹل والٹس یعنی اکاؤنٹس کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔“
اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ’آپریشن اکنامک فیوری‘ کے نام سے مارچ 2025 سے شروع اس معاشی مہم نے ایرانی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور وہاں کی حکومت شدید مالیاتی بحران کا شکار ہو چکی ہے۔
امریکی وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ ناقابلِ یقین حد تک کامیاب فوجی کارروائیوں اور پھر معاشی دباؤ کی اس مہم کے بعد، جہاں ہم نے ایران کو دنیا سے بالکل الگ تھلگ کر دیا ہے، وہیں اب وہ مالی طور پر اپنی برداشت کی آخری حد تک پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے ایران کے اندرونی حالات کا نقشہ کھینچتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس وقت ایران کے 40 سے 50 فیصد فوجیوں کو تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں، پولیس اہلکاروں نے تھانوں میں رپورٹ کرنا چھوڑ دیا ہے، ملک میں مہنگائی کی شرح شاید 200 فیصد سے بھی اوپر چلی گئی ہے، حکومت کو عوام میں راشن کے ڈوپو یا فوڈ واؤچرز تقسیم کرنے پڑ رہے ہیں اور انہوں نے ملک میں انٹرنیٹ بھی بند کر دیا ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ نے بتایا کہ امریکی وزارتِ خزانہ کی مداخلت سے پہلے ایرانی حکومت ہر مہینے 40 سے 50 کروڑ ڈالر اپنے ملک سے نکال کر درجنوں بڑے رہنماؤں میں تقسیم کر رہی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ”یہ وہ پیسہ ہے جو ایرانی عوام سے چرایا گیا تھا اور اب ہم یورپ میں موجود اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایرانی رہنماؤں کے وہاں موجود ولاز، قیمتی مکانات اور جائیدادیں ضبط کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔“
ایران کے ساتھ جاری مذاکرات اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر امریکی وزیرِ خزانہ نے واضح کیا کہ اس وقت ناکہ بندی کے دوران جو کچھ بھی ہٹایا جائے گا، وہ فوری طور پر نہیں بلکہ آہستہ آہستہ ہٹایا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ایران نے جوہری موضوع پر امریکا کے ساتھ بات چیت کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
تاہم، انہوں نے مذاکرات میں آنے والی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس وقت ایران میں تیسرے درجے کی قیادت سے نمٹنا پڑ رہا ہے کیونکہ پہلے اور دوسرے درجے کے رہنما ختم ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات بہت کٹھن ہیں کیونکہ ایک طرف ہمارے سامنے مذہبی رہنماؤں کی حکومت ہے تو دوسری طرف پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے مسلح گروہ کی آمریت ہے، اور ہمیں ان دونوں فریقین کو قائل کرنا ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کو تہران کی ایک بہت بڑی غلطی قرار دیا جس نے امریکی مشن کو مزید آسان بنا دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے پہلے ہمارے کئی خلیجی اتحادی اپنے بینکنگ سسٹم اور ایرانی تیل کی منتقلی کے معاملے میں اتنے واضح نہیں تھے، لیکن ایران کی طرف سے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے تمام چھ ممالک پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد ان ممالک نے ایران کے ساتھ اپنے بینکنگ اور تیل کے روابط کو ظاہر کرنا شروع کر دیا ہے۔
عمان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ عمان نے اب ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی ٹیکس یا ٹول نافذ نہیں کرے گا، تاہم انہوں نے تنبیہ کی کہ اگر عمان نے کسی بھی صورت میں ایران کی مدد کرنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف بھی سخت معاشی پابندیاں لگائی جائیں گی۔
انہوں نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی پر مامور نوجوان امریکی فوجیوں کی کارکردگی کو بھی سراہا اور کہا کہ امریکی عسکری قیادت کے مطابق یہ نوجوان خوفزدہ نہیں ہیں بلکہ ملک کے لیے فرنٹ لائن پر کام کرنا چاہتے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






